اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس کا 15 نکاتی ایجنڈا بھی جاری کیا جا چکا ہے جس میں وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد بھی شامل ہے۔قومی اسمبلی اجلاس کے لیے سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں اور ریڈ زون میں دفعہ 144 نافذ کر کے حساس علاقے کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے۔اسلام آباد پولیس، رینجرز اور ایف سی کی نفری کو جگہ جگہ تعینات کیا گیا ہے، کسی بھی غیر متعقلہ شخص کو ریڈ زون میں داخلے کی اجازت نہیں ہو گی تاہم ریڈ زون جانے والے ملازمین اپنے دفتر کا کارڈ دکھا کر جا سکتے ہیں۔
قومی اسمبلی اجلاس کے لیے ایم این ایز کو ہدایت نامے بھی جاری کر دیے گئے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ قومی اسمبلی اجلاس میں مہمانوں کے داخلے پر پابندی ہو گی۔ اس کے علاوہ ایم این ایز، وزرا کے سکیورٹی گارڈز اور ذاتی عملہ ساتھ لانے پر بھی پابندی ہو گی۔ارکان پارلیمنٹ مخصوص پارکنگ میں گاڑی کھڑی کرنےکے پابند ہوں گے، ایم این ایز کے لیے پارلیمنٹ لاجز سے پارلیمنٹ ہاؤس تک شٹل سروس شروع کی جائےگی۔ ریڈ زون میں داخلے اور باہر نکلنےکی اجازت صرف مارگلہ روڈ سے ہے، سرینا چوک، نادرا چوک، ایکسپریس چوک اور ایوب چوک ریڈ زون میں داخلے اور باہر نکلنے کے لیے بند رہیں گے۔
قومی اسمبلی کا ہنگامہ خیز اجلاس اسپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت شروع

ٹیگز:
قومی
