کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)گوادر میں حق دو تحریک کے دھرنے کے اختتام پر شرکاء میں پیسے تقسیم کرنے پر وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو کو نا اہل قرار دینے کی آئینی درخواست بلوچستان ہائی کورٹ میں دائر کردی گئی، ہفتہ کودرخواست گزار سپر یم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر امان اللہ کنرانی کی جانب سے بلوچستان ہائی کورٹ میں آئینی درخواست جمع کروائی گئی ہے جس میں انہوں نے فیض آباد دھرنا کیس کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روح سے وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو فیصلے کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے لہذا انہیں طلب کر کے ان سے وضاحت طلب کی جائے اور اگر وہ عدالت کو مطمئن نہیں کرتے تو انکے خلاف توہین عدالت اور آئین کے آرٹیکل 62،63کے تحت کاروائی کرتے ہوئے نا اہل قرار دیا جائے۔درخواست جمع کروانے کے بعد امان اللہ کنرانی ایڈوکیٹ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلو چستان میر عبدا لقدوس بزنجو نے گوادر دھر نے سے واپسی کے موقع پر خواتین اور بچوں میں پیسے عزت بخشے اور بلو چ اقداد کی پاس رکھتے ہوئے کی نیت سے تقسیم کئے ہوں گے لیکن وہاں پر صرف چند خواتین اور بچے د نہیں تھے بلکہ ہزار وں اور لاکھوں کی تعداد میں موجو د تھے اگر وزیر علیٰ ہزاروں اور لاکھو ں لوگوں میں پیسے تقسیم کر نا چاہتے ہیں تو آئین اور قانونی کے دائر ے میں رہ کرزکواۃ فنڈ یا بے نظیر فنڈ کے تحت ایک پیکچ کا اعلان کر دیں تو آئند ہ ہر ماہ گوادر کے لوگوں کو پانچ ہزار روپے ملیں گے تو سب سے پہلے میں اسے میں خیر مقدم کروں گا ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہو گا وزیر علیٰ نے پیسے ایسے دئے ہیں جیسے کسی بھیکاری کو دئے ہوں ہمیں اس عمل سے اختلاف ہے نہ کہ ہمیں کسی کی مدد کر نے سے اختلا ف نہیں ہے وزیر اعلیٰ بلو چستان بادشاہوں کی طرح پیسے تقسیم کر رتھے جبکہ وہ بادشاہ نہیں ہے سعودی عرب سے شہزاے جب شکار کے لئے پاکستان آتے ہیں تو ایم پی ایز اور ایم این ایز کو پیسے دیتے ہیں بہت سا رے لوگ سعودی کے لوگوں کے خرچوں ایم پی ایز اور ایم این ایز بنتے ہیں ہما رے نواب، سردار عوام پر ظلم کر تے ہیں جبکہ سعودی کے شہزادوں کے سا منے بلی بن کر کھڑے ہو جا تے ہیں اور اپنی عزت نفس کر بیچ دیتے ہیں یہاں پر آئین و قانون عوامی نمائندوں نے بنایا ہے آرٹیکل 14کے تحت کسی کی عزت نفس کو متاثر نہیں کر سکتے ہیں آرٹیکل 189 کے تحت آپ سپر یم کورٹ کے پا بند ہیں وزیر اعلیٰ بلو چستان میر عبد القدوس بزنجو نے آرٹیکل 189کی خلاف ورزی کی ہے اور آئین یہ کہتا ہے کہ وزیر علیٰ ہو،ایم پی اے ہویا ایم این اے ہو جب حلف اٹھا تاہے تو اسکا مطلب ہوتا ہے وہ آئین کی وفا دی کر ے گا لیکن وزیر اعلیٰ بلو چستان میر عبد القدوس بزنجو نے آرٹیکل 5کے تحت وفا داری نہیں دیکھائی وزیر اعلیٰ بلو چستان نے گوادر دھر نے میں آرٹیکل 189،اپنے حلف اور سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی کی ہے تو لہٰذاوزیر اعلیٰ بلو چستان میر عبد القدوس ایم پی اے قائم رہنے کے حق دار نہیں ہے انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے 6فروی 2019کو ایک فیصلہ سنا یا تھا کہ جس میں دھرنے میں پیسے تقسیم کر نے کے عمل کو غیر آئینی،غیر اخلا قی قرار دیا تھا اور چند ہدایت کی تھیں وزیر اعلیٰ بلو چستان کا یہ عمل جج منٹ کے خلاف ہے اگر کو ئی بھی شخص آئین کی خلاف ورزی کرتا ہے تو وہ آئین کے آرٹیکل 63جی کے تحت اپنے عہدے پر فائز نہیں رہ سکتا میں نے بلو چستان ہائی کورٹ سے استد عا کی ہے کہ وزیر اعلیٰ بلو چستان نے سپریم کورٹ کے 318کی خلاف ورزی کی ہے جس پر وہ آوران سے منتخب ا یم پی اے کے عہدے پر فائز نہیں رہ سکتے لہٰذا انہیں نا اہل قرار دیا جائے دین ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ اگر آپ خیرات یا صد قہ بھی دیتے ہیں تو ایسے دیں کہ ایک ہا تھ سے دیں تو دوسرے ہا تھ کو پتہ نہیں چلنا چاہیے آرٹیکل 14میں کہا گیا ہے کہ ہر انسا ن کی عزت و نفس کا تقدس کا خیال کر نا ہے وزیر اعلیٰ بلو چستان نے جن خواتین میں پیسے تقسیم کئے انکی تصاویر واضح ہو رہی جب انکے بیٹے دیکھیں گے تو معاشرے میں انکی کیا عزت رہے گی وزیر علیٰ بلو چستان نے آرٹیکل اور اسلام کے بھی خلاف ورزی کی ہے دنوں صورتوں میں یہ جرم ہے وزیر اعلیٰ بلو چستان نے جس بھی نیت سے تقسیم کئے ہوں لیکن یہ عمل اسلام کے لحاظ سے بھی اور آئین اور سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلا ف ورزی کے بھی یہ عمل جرم ہے ہم نے اس جرم کی نشا دہی بلو چستان ہائی کورٹ میں کی ہے یہاں سے جو بھی فیصلہ ہو گا اسکی روشی میں فیصلے کو سپریم کورٹ بھی لیکر جائیں گے۔انہوں نے کہاکہ ہفتہ کو عدالت بند ہونے کی وجہ سے درخواست پر سماعت ہی نہیں ہوئی درخواست خارج کرنے کی باتیں محض افواہیں ہیں۔
گوادر، دھرنے کے اختتام پرشرکاء میں پیسے تقسیم کرنے پروزیراعلیٰ بلوچستان کونا اہل قراردینے کی آئینی درخواست بلوچستان ہائی کورٹ میں دائر

ٹیگز:
بلوچستان ہائی کورٹ
