کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) صوبائی مشیر داخلہ بلو چستان میر ضیاء اللہ لانگونے کہا ہے کہ ویڈیو اسکینڈل کے کیس میں 2افراد گرفتار ہو چکے ہیں جبکہ افغانستا ن حکومت کے سا تھ وفا قی حکومت رابطے میں ہے حالیہ ویڈیو اسکینڈ ل کے معاملے پروزیر اعلیٰ بلو چستان نے خود نظر رکھی ہو ئی ہے، خواتین کی نازیبا ویڈیو بنا نے اور بلیک میلنگ میں ملوث درندوں کو معاف نہیں کیا جائے گا،ان معاملات میں سیا ست کو داخل نہ کیا جائے بلکہ اداروں کو اپنا کام کر نے دیا جائے بلو چستان یونیورسٹی کے معاملے کو سیا سی نظر دی گئی ہے پو لیس ایک ذمہ دار ادارہ ہے جو معلوما ت ہمیں مل رہی ہیں اس سے ثابت ہو تا ہے کہ بلو چستان پو لیس کا کر دار قابل ؎فخر ہے۔ یہ بات انہوں نے اتوار کو پریس کا نفرنس کر تے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہاکہ حالیہ ویڈیو اسکینڈ ل کے معاملے پروزیر اعلیٰ بلو چستان نے خود نظر رکھی ہو ئی ہے اس معاملے میں ملوث ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچا ئیں گے حکومت کی ہدایت پر پو لیس کی جانب سے جو معلوما ت ہمیں مل رہی ہیں اس سے ثابت ہو تا ہے کہ بلو چستان پو لیس کا کر دار قابل ؎فخر ہے خواتین کی ویڈیو بنانے اور بلیک میلنگ میں ملوث درندوں کو معاف نہیں کیا جائے گا پاکستان بلخصوص بلو چستان کی عوام اطمینان رکھیں حکومت اور انکے ادارے اپنے فرائض سے بخوبی طورپر واقف ہیں آئند بھی اگر کوئی شخص اس قسم کی درند گی کا مظاہرہ کر ے گا تو وہ حکومت اور اداروں سے نہیں بچ پائے گا،انہوں نے کہاکہ ڈی آئی جی پولیس کی جانب سے حکومت کو رپورٹ پیش کی گئی ہے جس سے حکومت مطمئن ہے لیکن ابھی تفتیش جا ری ہے اگر اس پر ہم بات کریں گے تو میں سمجھتا ہوں کہ ملزمان کو فائدہ پہنچ سکتا ہے وومن یو نیورسٹی ہو یا کوئی اور جگہ جہاں بھی اس قسم کی درند گی ہو گی تو حکومت اور ادارے پچھے نہیں ہٹیں گے ان معاملات میں سیا ست کو داخل نہ کیا جائے بلکہ اداروں کو اپنا کام کر نے دیا جائے بلو چستان یونیورسٹی کے معاملے کو سیا سی نظر دی گئی ہے جس کی وجہ سے اس کیس کو نقصان پہنچ سکتا ہے ویڈیو اسکینڈل کے معاملے میں 2افراد گرفتار ہو چکے ہیں جبکہ افغانستا ن حکومت کے سا تھ وفا قی حکومت رابطے میں ہے پولیس بلکل آزاد ہے ان پر کسی قسم کا دباؤ نہیں ڈالا جا رہا ہے بلو چستان پولیس انتی کمزور نہیں ہے کہ چھو ٹی چھوٹی سفارشوں پر جھک جائے انہوں نے کہاکہ بغیر تعاون کے پولیس کیسے کسی معاملے کو آگے لیکر چل سکتی ہے لو گ پو لیس کے سا تھ تعاون نہیں کر رہے کچھ کیس ایسے بھی ہیں جنہوں نے رپورٹ درج کر وائی ہے اور اب وہ غائب ہیں انہوں نے کہاکہ سوشل میڈیا پرویڈیو تب آئی جب ویڈ یو پولیس کے پاس نہیں تھیں پو لیس ایک ذمہ دار ادا رہ ہے وہ اپنا کام ذمہ داری سے کر رہی ہے تمام چیزیں محفوظ ہیں اور اگر کوئی اس میں ملوث ہوا تو وہ بھی بچ نہیں پائے گا انہوں نے کہاکہ حالیہ ویڈیو اسکینڈ ل کے معاملے پر احتجاج کر نا عوام کا حق ہے لیکن عوام سے اپیل ہے کہ وہ حکومت کے سا تھ تعاون کریں تا کہ ان درندوں کو کیفر کر دار تک پہنچا یا جا سکے۔
خواتین کی نا زیباویڈیو بنا نے اوربلیک میلنگ میں ملوث درندوں کومعاف نہیں کیا جائے گا ، میر ضیاء اللہ لانگو

ٹیگز:
میر ضیاء اللہ لانگو
