پشاور(ڈیلی گرین گوادر)خیبرپختونخوا کے معزول وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی مبینہ گمشدگی اور ‘غیر قانونی حراست’ کے خلاف ان کے بھائی محمد عامر نے پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کرتے ہوئے ان کو بازیاب کرا کرعدالت پیش کرنے کی استدعا کی ہے۔سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت کیساتھ 2 اور 3 اکتوبر کو ہونے والے مذاکرات کی ناکامی کے بعد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی رہائی اور متعدد دیگر مطالبات کے حق میں 4 اکتوبر کو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا آغاز کیا تھا۔
تاہم لانگ مارچ کے اسلام آباد پہنچنے سے قبل ہی وفاقی حکومت نے 11 اکتوبر کو آئین پاکستان کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کی۔ اس فیصلے کے بعد سہیل آفریدی اور پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں کو حراست میں لیا گیا جس کی تصدیق وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز سے گفتگو کے دوران بھی کی۔انہوں نے رائٹرز کو بتایا کہ “ہاں میں تصدیق کر سکتا ہوں کہ وزیر اعلیٰ اور ان کی کابینہ کے کچھ افراد کو حراست (پری ونٹیو کسٹڈی) میں لیا گیا ہے۔”
سہیل آفریدی کی ‘حراست’ کے خلاف دائر درخواست میں محمد عامر نے مؤقف اپنایا کہ ان کے بھائی کو 11 اکتبور کو دن 2 بجے پولیس افسران کی موجودگی میں وزیر اعلیٰ ہاؤس پشاور سے “مسلح اور نقاب پوش نامعلوم افراد اغوا کر کے لے گئے”۔آئین پاکستان کے آرٹیکل 199 کے تحت دائر کی گئی درخواست میں انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبرپختونخوا، کیپیٹل سٹی پولیس افسر پشاور، ایس ایس پی آپریشنز، ایس پی رورل اور ایس ایچ او تھانہ ایسٹ کینٹ کے علاوہ مسلح اور نقاب پوش نامعلوم افراد کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔
درخواست میں محمد عامر نے مؤقف اپنایا کہ سہیل آفریدی کو 11 اکتوبر کو وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور سے ‘مسلح اور نقاب پوش افراد’ مبینہ طور پر اغوا کرکے نامعلوم مقام پر لے گئے۔ درخواست کے مطابق یہ واقعہ کیپیٹل سٹی پولیس افسر پشاور کی موجودگی میں پیش آیا، جس کے باعث سکیورٹی انتظامات اور متعلقہ حکام کے کردار کے بارے میں سوالات پیدا ہوتے ہیں۔
درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ پولیس حکام کو سہیل آفریدی کی فوری بازیابی کے لیے اقدامات کرنے، ان کا موجودہ پتہ اور خیر و عافیت کے بارے میں رپورٹ پیش کرنے اور اگر وہ کسی کی حراست میں ہوں تو انہیں عدالت کے روبرو پیش کرنے کا حکم دیا جائے تاکہ حراست کی قانونی حیثیت کا جائزہ لیا جا سکے۔
سہیل آفریدی کے بھائی نے واقعے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات اور ضرورت پڑنے پر مقدمہ درج کرنے کی بھی استدعا کی ہے۔ درخواست میں سی سی ٹی وی فوٹیج، سکیورٹی ریکارڈ، داخلی و خارجی راستوں کے اندراجات، ڈیوٹی روسٹرز اور دیگر متعلقہ شواہد محفوظ کرنے کی ہدایت دینے کی اپیل بھی کی گئی ہے۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ سمیت ہر شہری کو بنیادی اور آئینی حقوق حاصل ہیں اور کسی بھی شخص کو قانونی اختیار کے بغیر حراست میں نہیں رکھا جا سکتا۔محمد عامر نے عدالت سے معاملے کی عدالتی تحقیقات اور سہیل آفریدی کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے فوری احکامات جاری کرنے کی استدعا کی ہے۔

