کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) بلوچستان اسمبلی کے اپوزیشن اراکین نے خیبر پختونخواء میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنے کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے خیبر پختونخواء حکومت کو بحال کرنے کا مطالبہ کردیاجبکہ حکومتی اراکین نے کہا ہے کہ وفاق نے حالات کی بہتری کی کوشش کی تاہم خیبر پختونخواء حکومت کا رویہ درست نہیں تھا،ایمر جنسی آئینی اقدام ہے۔ پیر کو بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کے پی میں ایمرجنسی اورگورنر راج کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں آئین میں صرف 232 اور 234 کے آرٹیکلز نہیں،آرٹیکل ون بھی ہے،۔انہوں نے کہا کہ ہم خوش ہیں کہ یہ جمہوریت ہے، کے پی میں بدامنی تو افغان انقلاب سے شروع ہوئی کے پی میں ایمرجنسی اور گورنر راج لگانا نیک شگون نہیں ہے، مجھے ڈر ہے کہ یہ سلسلہ یہاں نہیں رکے گا، میری اطلاع تھی کہ ایمرجنسی پہلے بلوچستان میں لگنے والی تھی پھر ملک میں بھی ایمرجنسی لگ سکتی ہے،کیونکہ عوام سے اختیارات چھین لئے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مارشل لا،ایمرجنسی،گورنر راجوں نے عوام کو نان شبینہ کا محتاج بنادیاہے خیبر پختونخوا کی حکومت کو بحال کیا جائے۔
مارشل لا،ایمرجنسی،گورنر راجوں نے عوام کو نان شبینہ کا محتاج بنادیاہے،ڈاکٹر مالک بلوچ

ٹیگز:
ڈاکٹر مالک بلوچ
