کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)،بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں جمعیت علماء اسلام کے رکن میر زابد ریکی کا سفر سے روکے جانے پر احتجاج، اسمبلی نے دو اہم ترمیمی قوانین منظور کرلیے، اسپیکر کا جنگلات بھرتی اسکینڈل کی تحقیقات کیلئے دو روز میں کمیٹی بنانے کا اعلان۔بلوچستان اسمبلی کا اجلاس منگل کو اسپیکر عبدالخالق اچکزئی کی زیر صدارت شروع ہوا،اجلاس میں جمعیت علماء اسلام کے رکن اسمبلی زابد ریکی نے پوائنٹ آف آرڈر پر اظہار خیال کرتے ہوئے عمرہ ادائیگی کے لیے بیرون ملک روانگی کے موقع پر ایئرپورٹ پر روکے جانے کا معاملہ ایوان میں اٹھاتے ہوئے اسے اپنا استحقاق مجروح کرنے کے مترادف قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں ایئرپورٹ پر عمرہ ادائیگی کے لیے روانگی کے دوران روکا گیا اور ایف آئی اے حکام نے انہیں دہشت گرد قرار دے کر سفر سے روک دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ حمزہ شفقات نے ان کا پاسپورٹ بلاک کر کے نام پی سی ایل اور ای سی ایل میں شامل کیا ہے انہوں نے کہا اس معاملے پر وضاحت کے لیے حمزہ شفقات سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تاہم انہوں نے فون نہیں اٹھایا۔انہوں نے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ آئینی اور جمہوری حقوق کی بات کی ہے، بتایا جائے ان کا قصور کیا ہے۔ واشک میں دہشت گردوں کا سامنا کرتے ہیں لیکن کوئٹہ میں انہیں دہشت گرد قرار دیا جاتا ہے۔ زابد ریکی نے مطالبہ کیا کہ بتایا جائے ان کا کس کالعدم تنظیم سے تعلق ہے اور اگر ان کے خلاف کوئی ثبوت موجود ہیں تو وہ ایوان کے سامنے پیش کیے جائیں۔رکن اسمبلی نے مطالبہ کیا کہ ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ حمزہ شفقات کو ایوان میں طلب کرکے الزامات کے شواہد پیش کرنے کا کہا جائے۔اگر وہ شواہد پیش کردیں تو وہ اسمبلی رکنیت سے مستعفیٰ ہونے کو تیار ہیں اس موقع پر انہوں نے احتجاجا اپنا پاسپورٹ بھی ایوان میں پھینکا۔اس موقع پر وزیراعلیٰ میر سر فراز بگٹی نے کہا کہ پاکستان کا پاسپورٹ پھینکا قابل مذمت ہے۔انہوں نے کہا کہ زابد ریکی کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ قابل مذمت ہے ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ کو اپنے چیمبر میں طلب کرلیا ہے ان سے اس حوالے سے وضاحت لی جائیگی۔ اجلاس میں صوبائی وزیر میر سلیم کھوسہ نے وزیر داخلہ کی جانب سے کوڈ آف کریمنل پروسیجر 1898 بلوچستان ترمیمی مسودہ قانون ایوان میں پیش کیا، جسے قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کی سفارشات کے مطابق منظور کرلیا گیا۔اسی طرح بلوچستان سٹیزن فیسیلیٹیشن اینڈ گورننس بل 2026 بھی صوبائی وزیر میر سلیم کھوسہ نے وزیر داخلہ کی جانب سے ایوان میں پیش کیا، جسے قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کی سفارشات کے مطابق منظور کرلیا گیا۔اجلاس میں بلوچستان کیڈٹ کالجز ترمیمی مسودہ قانون 2026 بھی ایوان میں پیش کیا گیا، تاہم اسے مزید غور کے لیے متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کردیا گیا۔اجلاس میں اپوزیشن لیڈر میر یونس عزیز زہری نے پوائنٹ آف آرڈر پر کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان نے بھرتیوں سے متعلق الزامات کی تحقیقات کا اعلان کیا تھا، تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ وزیراعلیٰ نے مذکورہ آسامیاں منسوخ کردی ہیں۔انہوں نے سوال کیا کہ تحقیقات کے لیے کمیٹی اب تک کیوں تشکیل نہیں دی گئی۔ میر یونس عزیز زہری نے کہا کہ طے ہوا تھا کہ فیصلہ اسمبلی میں ہوگا لیکن معاملات انڈر ٹیبل ہوئے ہیں۔اس پر اسپیکر عبدالخالق اچکزئی نے کہا کہ انڈر ٹیبل کچھ نہیں ہوا، تمام امور سب کے سامنے اور شفاف انداز میں کیے جارہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ بیرون ملک مصروفیت کے باعث تحقیقاتی کمیٹی تشکیل نہیں دے سکے، تاہم آئندہ دو روز میں کمیٹی قائم کردی جائے گی۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے بھی محکمہ جنگلات میں بھرتیوں کے معاملے پر کہا کہ حکومت اپنا کام کرچکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تین افسران معطل ہیں اور ان کے خلاف کارروائی جاری ہے۔اجلاس میں صوبائی وزیر نور محمد دمڑ نے وزیراعلیٰ بلوچستان کا شکایت کا نوٹس لینے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ نے ان کی شکایت پر فوری اور سنجیدہ کارروائی کی۔نیشنل پارٹی کے رکن سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے اسمبلی میں پوائنٹ آف آرڈر پر صوبے کی لینگویجز اکیڈمیوں کے فنڈز بند ہونے کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ اکیڈمیوں کے عہدیداران نے انہیں آگاہ کیا ہے کہ ان کے فنڈز بند ہیں جس کے باعث علمی و ادبی سرگرمیاں متاثر ہورہی ہیں ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے وزیراعلیٰ بلوچستان اور صوبائی وزیر خزانہ سے مطالبہ کیا کہ لینگویجز اکیڈمیوں کے فنڈز فوری جاری کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ سڑکیں اور نالیاں تو بنتی رہتی ہیں، اکیڈمیوں کے فنڈز بھی جاری کیے جائیں۔اجلاس میں رکن اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن نے اسمہ جتک کے والد کے قتل کے معاملے پر پوائنٹ آف آرڈر پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ خضدار میں قتل کیس سے جڑے لوگوں کو مارنے کی بات کی گئی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسمہ جتک کے مبینہ اصل اغوا کاروں اور ان کے والد و ماموں کے اصل قاتلوں کو گرفتار کیا جائے۔مولانا ہدایت الرحمن نے کہا کہ وہ ہر اسمبلی اجلاس میں یہ معاملہ اٹھاتے رہیں گے۔صوبائی وزیر حاجی علی مدد جتک نے بھی اصل قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ سردار ہو یا نواب، جو بھی ملوث ہو اسے گرفتار کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ سرداروں اور نوابوں کے ظالم گن مینوں کی وجہ سے لوگ کہاں جائیں۔علی مدد جتک نے کہا کہ انہیں سوشل میڈیا کے ذریعے معلوم ہوا ہے کہ تین قاتل مارے گئے ہیں۔بعدازاں بلوچستان اسمبلی کا اجلاس 9 اکتوبر بروز جمعہ سہ پہر 3 بجے تک ملتوی کردیا گیا۔
بلوچستان اسمبلی، کوڈ آف کریمنل پروسیجراور سٹیزن فیسیلیٹیشن اینڈ گورننس بل منظور

ٹیگز:
بلوچستان اسمبلی
