کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)پشتونخواملی عوامی پارٹی ضلع کوئٹہ کے ضلع کمیٹی کا اجلاس پارٹی کے صوبائی سینئر نائب صدر وضلع سیکرٹری سید شراف آغا کے زیر صدارت پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں پارٹی کے صوبائی صدر عبدالقہار خان ودان، صوبائی پارلیمانی سیکرٹری حضرت عمر ایڈووکیٹ نے شرکت کی۔ اجلاس کا ایجنڈا تنظیمی سیاسی فعالیت، کوئٹہ کے چاروں تحصیلوں صدر، سٹی، کچلاغ اور سریاب کے کانفرنسز کے انعقاد، عوامی رابطہ مہم، صوبائی کمیٹی کے فیصلوں پر عملدرآمد کو یقینی بنانااور کوئٹہ کے عوام کو بنیادی مسائل کے حل کے لیے پارٹی کارکنوں کو ہر وقت عوام کے مابین رہنے اور اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر مسائل میں کمی پر زور دیا گیا۔ اجلاس میں ضلع کوئٹہ کے اطلاعات سیکرٹری فیصل کاکڑنے ضلعی اطلاعات رپورٹ پیش کی جبکہ تحصیل صدر کے سیکرٹری نعیم پیر علیزئی نے صدر تحصیل،کچلاغ تحصیل کے سیکرٹری ملک نادر کاکڑ نے کچلاغ تحصیل، سٹی تحصیل کے سینئر معاون سیکرٹری شکور افغان نے سٹی تحصیل اور سریاب تحصیل کے سینئر معاون سیکرٹری سید عبدالخالق آغا نے سریاب تحصیل کی رپورٹ پیش کی۔ اجلاس سے عبدالقہار خان ودان اور سید شراف آغا نے خطاب کرتے ہوئے 7اکتوبر 1983کے شہدا جمہوریت کاکا محمود شہید،رمضان شہید، داؤد شہید،اسلم اولس یار شہید کی 43ویں اور 11اکتوبر 1991کے شہدا وطن عبدالرحیم کلیوال شہید،صابر شاہ شہید،حبیب الرحمن شہید، صاحب خان شہید اور باز محمد باز شہید کی شہادت کی35ویں برسی کے موقع پر پشتونخواملی عوامی پارٹی کے محبوب چیئرمین، تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی صدارت میں ضلع ژوب میں پارٹی کے زیر اہتمام مرکزی جلسہ عام کے انعقاد کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ شہدا وطن اور شہدا جمہوریت کی برسیوں کو منانے کا مقصد ان کی قومی، وطنی، جمہوری خدمات وقربانیوں پرنہ صرف خراج عقیدت پیش کرنا بلکہ ان کے ملی ارمانوں کی تکمیل کے لیے نئے ولولے کے ساتھ جاری جدوجہد کو آگے بڑھانے اور اپنے عزم کا اعادہ کرنا ہے۔اور شہدا کا یہ جلسہ جنوبی پشتونخوا کے ضلع ژوب میں ایسے حالات میں پارٹی جلسہ کرنے جارہی ہے ملک میں فارم47کی حکومت مسلط ہے، آئین پائمال ہے، غیر منتخب پارلیمنٹ کے ذریعے غیر آئینی، غیر قانونی بلوں، قوانین اور آئینی ترامیم کرکے عدلیہ اور میڈیا کی آزادی ختم کردی گئی اور مائنز ومنرل ایکٹ کے سیا ہ قانون کے تحت عوام کی جدی پدری زمینوں، جنگلات، معدنیات پر قبضہ کیا جارہا ہے اور صوبائی خودمختیاری چھین لی گئی ہے۔ پشتونخوا وطن میں بدامنی، لاقانونیت، اغواء کاری، قتل وغاری گیری، املاک کو نذر آتش کرنے نقصانات پہنچانے، بھتہ خوری، قبضہ گیری، مسلح جتوں کو سرکاری سرپرستی میں مکمل چھوٹ دی گئی ہے اور اس کے ذریعے ہمارے عوام کا خون ناحق بہایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 7اکتوبر 1983 ضیاء الحق کے مارشلاء کے خاتمے، آئین کی بالادستی، جمہوریت کی بحالی، سندھ کے عوام اور سیاسی جمہوری کارکنوں کیخلاف آمر حکمرانوں کی جاری ظلم وجبر،تشدد، قیدوبند، قتل عام کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے پارٹی کے محبوب قائد محمود خان اچکزئی کی قیادت میں تاریخی احتجاجی جلوس نکالی گئی اور اس جلوس کے دوران اُس وقت کے جنرل ڈائر (رحیم الدین) گورنر کے حکم پر پارٹی چیئرمین محمود خان اچکزئی پر قاتلانہ حملہ کیا اور ان سرباز کارکنوں نے اپنے سینے آگے کرتے ہوئے اپنے قائد کی حفاظت کو یقینی بنایا اور اسی دن جلوس پر فائرنگ اور لاٹھی چارج کے نتیجے میں بہت سے پارٹی کارکن زخمی ہوئے جبکہ پارٹی رہنماوں ڈاکٹر کلیم اللہ خان، عبدالقہار خان ودان سمیت درجنوں پارٹی رہنماء وکارکنان گرفتار ہوئے۔اسی طرح 11اکتوبر1991کے شہدا وطن جنہو ں نے پشتونخوا وطن کے قومی مفادات کے تحفظ کے خلاف سازش اور پارٹی دفتر پر قبضہ گروں کے قاتلانہ حملے کو ناکام بناتے ہوئے اپنے سروں کا نذرانہ پیش کیا۔ پشتونخواملی عوامی پارٹی جاری جدوجہد کے دوران خان شہیدعبدالصمد خا ن اچکزئی اور تمام رہ۔
شہدا جمہوریت اور شہدا وطن کی برسی پر7اکتوبر کو ژوب میں تاریخی جلسہ عام ہوگا، پشتونخوامیپ

ٹیگز:
پشتونخوامیپ
