کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)صوبائی وزراء میر ظہور بلیدی اورمیر ضیاء اللہ لانگو نے کہا ہے کہ بلوچستان کابینہ نے ورکرز ویلفیئر بورڈ اسکالرشپ کے تحت 300بچوں کو تعلیم فراہم کرنے،ساؤتھ بلوچستان پیکج کے مختلف منصوبوں کی سیکورٹی کے لیے 858ملین روپے، ہرنائی سبی شاہراہ کو وفاقی حکومت کے ساتھ 80اور 20فیصد اشتراک سے مکمل کرنے، تعمیر نو کالج کو یونیورسٹی کا درجہ دینے، پارکو ریفائرنری کے این او سی کی تجدید، گوادر میں ٹرائی اسٹیٹ گیس ٹرمینل کے قیام سمیت دیگر اہم منصوبوں کی منظوری دے دی ہے، بلوچستان میں دہشت گردوں کا قلعہ قمع کرنے کے لیے ہرممکن اقدامات اٹھائے جارہے ہیں، چاغی میں جلائے گئے باؤزر کے ڈرائیورز نے حکومتی کانوائے کے ایس او پی کی خلاف ورزی کی تھی، نیشنل پارٹی کے اپنے بیان میں خود صوبائی حکومت میں نہ آنے کی وضاحت کردی ہے،حکومت نے لیویز فورس بحال کرنے کی کسی قسم کی یقین دہانی نہیں کروائی۔ یہ بات انہوں نے بدھ کووزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں بلوچستان کابینہ کے اجلاس کے بعد صوبائی وزیر میر شعیب نوشیروانی،وزیراعلیٰ کی مشیر مینہ مجید کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔ صوبائی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات میر ظہور بلید ی نے کہا کہ بلوچستان کابینہ کا اجلاس وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت منعقد ہواجس میں 26نکاتی ایجنڈا زیر غور آیا۔انہوں نے کہا کہ کابینہ اجلاس کے آغاز پر زیارت سمیت دہشتگردی کے واقعات میں سیکورٹی فورسز، سولین شہداء کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی گئی اور دہشتگردی کی بیخ کنی کے لیے تمام وسائل بروئے کار لانے کا اعادہ کیا گیا۔ انہوں نے کابینہ کے فیصلوں سے متعلق آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ کابینہ نے ورکرز ویلفیئر بورڈ اسکالرشپ فیز IIٰI کے تحت 300بچوں کی تعلیم کے لیے اسکالرشپ کی منظور ی دے دی گئی ہے اس منصوبے کے تحت اب تک 781بچے مستفید ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2021میں شروع ہونے والے ساؤتھ بلوچستان پیکج کے تحت 7مختلف منصوبوں کی سیکورٹی کے لیے 858ملین روپے کے اجراء کی منظوری دی گئی ہے۔ کابینہ نے تعمیر نو کالج کو یونیورسٹی کا درجہ دینے کی منظوری دے دی ہے۔انہوں نے کہا کہ لیویز کے پولیس میں انضمام کے بعد بلوچستان کو اب پولیس کے زیر انتظام کردیا گیا ہے تاکہ صوبے بھر میں پولیسنگ کا یکساں نظام قائم ہو۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ پی اینڈ ڈی نے پہلی بار اپنا پلاننگ مینونل بنایا ہے جس کی کابینہ نے منظوری دے دی ہے اس عمل سے ترقیاتی عمل میں بہتری آئیگی۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی کابینہ نے 19ارب روپے لاگت سے تعمیر ہونے والے سبی ہرنائی روڈ کو وفاق کے ساتھ مشترکہ طور پر مکمل کرنے کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت 15ارب روپے سے زائد رقم وفاق جبکہ 3ارب سے زائد صوبہ ادا کریگا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کیڈٹ کالجز ایکٹ کے بورڈ میں ترمیم، گوادر ڈوپلمنٹ اتھارٹی کے ایمپلائز سروس رولز،بلوچستان چائلڈ پروٹیکشن رولز 2026، چائلڈ پروٹیکشن ہیلپ لائن کے قیام،کوئٹہ سیف سٹی منصوبے کے سروس ایگریمنٹ کی تجدید کی منظوری دے دی گئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ پارکو کوسٹل ریفائنری 1996میں 1400ایکڑ اراضی پر قائم کی گئی تاہم وہ منصوبے میں سرمایہ کاری سے قاصر رہے اب انہوں نے ایک بار پھر لیز کی تجدید کی درخواست کی ہے جس پر صوبائی حکومت نے فیصلہ کیا ہے اب مارکیٹ کی قیمت پر لینڈ چارجز کی ادائیگی، 2سال میں سرمایہ کاری کر کے پیٹروکیمیکل انڈسٹری تعمیر کی جائیگی جس سے لوگوں کو روزگار فراہم ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ترکمنستان کی سرمایہ کاری سے گوادر میں 14ارب ڈالر کی لاگت سے ٹرائی اسٹیٹ گیس ٹرمینل کے قیام کے حوالے سے کابینہ نے سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس معاملے پر بلوچستان کے حقوق کا تحفظ کریں اس منصوبے سے گوادر، پنجگور، چاغی، واشک کو گیس کی فراہمی بھی کی جائیگی۔ انہوں نے کہا کہ گوادر کے دو علاقوں کلانچی اور نیوٹاؤن کے افراد کو مالکانہ حقوق دینے کی منظوری دے دی گئی ہے جبکہ کندھ کوٹ اور منجوٹی تحصیل اور سب ڈویژن کندھ کوٹ کے قیام کی بھی منظوری دی گئی ہے۔کابینہ نے میزئی اور مسیزئی کو میونسپل کمیٹی کا درجہ دینے کی بھی منظوری دے دی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں میر ظہور بلید ی نے کہا کہ پارکو کو پابند کریں گے کہ وہ منصوبے پر کام کرے اور نئے نرخوں کے حساب سے زمین کی الاٹمنٹ کرے، انہوں نے کہا کہ امن و امان کی بنیاد بنا کر سرمایہ کاری کو نہیں روک سکتے ہم سرمایہ کاروں کے لیے محفوظ ماحول فراہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ورکز ویلفیئر بورڈ کے سکالرشپ لینے والے بچوں کو امریکن بورڈنگ اسکول میں داخل کروایا گیا ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں نے ایک پوڈ کاسٹ میں کہاتھا کہ پارلیمان میں ہمیشہ اکثریت کی بنیاد پر حکومت قائم کرنے کا اختیار حاصل ہوتا ہے اس وقت نیشنل پارٹی صوبے کی 5ویں نمبر کی جماعت ہے انہوں نے خود بھی اپنے بیان میں تردید کی ہے کہ وہ حکومت میں نہیں آنا چاہتے۔ ظہوربلیدی نے کہا کہ بلوچستان میں بیرونی عناصر جن کی سرپرستی را اور موساد کررہی ہیں حالات خراب کرنے میں ملوث ہیں غیر معمولی حالات میں غیر معمولی اقدامات کرنے پڑتے ہیں حکومت عوا م کا تحفظ اپنی اولین ذمہ داری سمجھتی ہے شعبان میں آپریشن کے کامیاب نتائج مرتب ہوئے ہیں جس کا کریڈٹ وزیراعلیٰ، وزیر داخلہ اور سیکورٹی فورسز کو جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی سرزمین پر کسی متحرک دہشتگرد ی کو برداشت نہیں کریں گے اور ان کے نیٹ ورک کا قلعہ قمع کریں گے اس وقت تک دہشتگردی کے خلاف لڑیں گے جب تک اس کا خاتمہ نہیں ہو جا تا۔اس موقع پر بات چیت کرتے ہوئے صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے کہا کہ سیف سٹی کیمروں کو عوامی احتجاج کے دوران نقصان پہنچایا گیا تھا جنہیں 10روز میں فعال کردیا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ پٹیل روڈ دھماکے کی تحقیقات جاری ہیں۔ایک سوال کے جواب میں صوبائی وزیرداخلہ نے کہا کہ اس وقت 400باوزر چاغی میں کانوائے کی صورت میں آنے کے لیے کھڑے ہیں جن باوزر کو جلایا گیا وہ حکومتی ایس او پی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے از خود آرہے تھے۔میر ضیاء اللہ لانگو نے مزید کہا کہ حکومت نے زیارت دھرنا کمیٹی کو لیویز دوبارہ بحال کرنے کی کسی قسم کی یقین دہانی نہیں کروائی تھی بلکہ انہیں کہا تھا کہ ان کی جماعتیں پارلیمان میں موجود ہیں وہ وہاں اس مسئلے کو اجاگر کریں۔
نیشنل پارٹی نے اپنے بیان میں خود صوبائی حکومت میں نہ آنے کی وضاحت کردی ہے ،میر ظہور بلیدی ،میر ضیاء اللہ لانگو ، میر شعیب نوشیروانی،مینہ مجیدکے ہمراہ پریس کانفرنس

ٹیگز:
میر ظہور بلیدی
