اٹک (ڈیلی گرین گوادر) ڈپٹی سیکرٹری جنرل حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان ثمینہ سعید نے کہا ہے کہ پاکستان کو درپیش اخلاقی، معاشرتی، تعلیمی اور معاشی بحرانوں سے نجات کا واحد راستہ قرآن کریم کی تعلیمات سے مضبوط تعلق اور ان پر عملی عمل درآمد ہے۔ جماعت اسلامی پاکستان اسی احساسِ ذمہ داری کے تحت ہر گھر اور ہر دل تک قرآن کا پیغام پہنچانے کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہی ہے۔انہوں نے اٹک میں منعقدہ خصوصی نشست میں فہم القرآن کلاسز کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نبی اکرم ﷺ کا سب سے بڑا کارنامہ دین کی تکمیل اور قرآن کے عملی نظام کو انسانیت تک پہنچانا ہے۔ آج امت کی ذمہ داری ہے کہ اسی مشن کو آگے بڑھاتے ہوئے قرآن کو اپنی زندگی کا محور بنائے۔ثمینہ سعید نے کہا کہ جماعت اسلامی محض نعروں کی نہیں بلکہ کردار، خدمت اور عملی جدوجہد کی جماعت ہے۔ پاکستان کے عوام کو جب بھی ضرورت پیش آئی، جماعت اسلامی ہر میدان میں ان کے ساتھ کھڑی رہی ہے۔ چاہے قدرتی آفات ہوں، تعلیم و تربیت کا شعبہ ہو یا “بنو قابل” پروگرام کے ذریعے نوجوانوں کو مایوسی سے نکال کر امید، ہنر اور باوقار مستقبل کی راہ دکھانا ہو، جماعت اسلامی نے ہمیشہ اپنی ذمہ داری ادا کی ہے۔انہوں نے کہا کہ قوموں کی تعمیر صرف ترقیاتی منصوبوں سے نہیں بلکہ قرآن سے جڑے ہوئے باکردار انسانوں سے ہوتی ہے۔ جب گھروں میں قرآن کی تعلیم عام ہوگی تو معاشرے میں عدل، دیانت، امانت اور خیرخواہی کی فضا قائم ہوگی۔انہوں نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی کی تاریخ ابتدا سے آج تک دیانت دار، باکردار اور بے داغ قیادت کی روشن مثال ہے۔ یہاں موروثی سیاست نہیں بلکہ امانت، صلاحیت، مشاورت اور خدمت کی بنیاد پر ذمہ داریاں سونپی جاتی ہیں، اور آئندہ بھی یہی روایت برقرار رہے گی۔پروگرام کے دوسرے مرحلے میں مرکزی نظم کی مربیات کے ساتھ خصوصی نشست منعقد ہوئی، جس میں ان کے تنظیمی و دعوتی امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ ثمینہ سعید نے مربیات کے مسائل سنے، ان کے جذبۂ خدمت کو سراہا، حوصلہ افزائی کی اور دعوتِ دین کے سفر کو مزید مؤثر بنانے پر زور دیا۔پروگرام کے اختتامی مرحلے میں جماعت اسلامی کی علمی روایت اسٹڈی سرکل منعقد ہوا، جس میں مرکزی، صوبائی اور ضلعی ذمہ داران نے شرکت کی اور فکری و تنظیمی موضوعات پر گفتگو کی۔اس موقع پر آنسہ اشفاق (نائب ناظمہ حلقہ پنجاب شمالی)، رخسانہ جبین (رکن صوبائی شوریٰ)، فرزانہ نوشین (ناظمہ ضلع اٹک)، جبکہ نائبین ضلع اٹک شازیہ فتح اور نسرین عبداللہ بابر بھی شریک ہوئیں۔آخر میں جامعات المحصنات کی بانی و ڈائریکٹر محترمہ امت الرقیب کی وفات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا گیا اور ان کی دینی، تعلیمی اور تربیتی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ اعلان کیا گیا کہ آج ان کی یاد میں جامعہ المحصنات منصورہ کے ہال میں تعزیتی ریفرنس منعقد ہوگا، جس میں ملک بھر سے خواتین اساتذہ، طالبات، مدبرین اور ذمہ داران براہِ راست اور آن لائن شرکت کریں گی۔
قرآن سے مضبوط تعلق ہی پاکستان کو بحرانوں سے نکال سکتا ہے: ثمینہ سعید

ٹیگز:
ثمینہ سعید
