منیٰ (ڈیلی گرین گوادر) یومِ ترویہ یعنی 8 ذوالحج کے آغاز اور عازمینِ حج کے پہلے قافلوں کی آمد کے ساتھ ہی منیٰ ایک بار پھر دنیا میں موسمی انتظامات کی شاندار ترین مثال بن کر سامنے آگیا ہے۔مکہ مکرمہ کے قلب میں واقع یہ وادی چند ہی دنوں میں ایک مکمل اور جدید شہر کی شکل اختیار کرلیتی ہے، جہاں لاکھوں حجاج کرام نہایت منظم انداز میں عبادات کی ادائیگی کے لیے جمع ہوتے ہیں۔منیٰ کو ایک جدید موسمی اسمارٹ سٹی کی حیثیت حاصل ہے، جہاں صرف سفید خیموں کا وسیع جال ہی نہیں بلکہ پسِ منظر میں ایک انتہائی مربوط اور مؤثر نظام بھی فعال ہوتا ہے۔اس نظام میں بجلی اور کولنگ کے جدید نیٹ ورکس، ہجوم کو منظم رکھنے کے طریقۂ کار، پیدل چلنے والوں کے لیے مخصوص راستوں کی منصوبہ بندی اور لوگوں کی نقل و حرکت کی لمحہ بہ لمحہ نگرانی شامل ہے۔اس کے ساتھ سیکیورٹی، صحت اور خوراک کی فراہمی جیسی سہولیات بھی مربوط انداز میں کام کرتی ہیں، جس سے مشاعرِ مقدسہ دنیا میں بڑے اجتماعات کے انتظام کا ایک منفرد نمونہ بن جاتے ہیں۔منیٰ میں جدید طرز کے خیموں کا مجموعی رقبہ تقریباً 25 لاکھ مربع میٹر پر مشتمل ہے، جو اعلیٰ ترین حفاظتی معیارات کے مطابق تیار کیے گئے ہیں، ان خیموں میں 26 لاکھ سے زائد عازمینِ حج کو ٹھہرانے کی گنجائش موجود ہے۔
یومِ ترویہ پر منیٰ میں عازمینِ حج کی آمد، جدید انتظامات نے دنیا کو حیران کردیا

ٹیگز:
منی
