کوئٹہ (ڈیلی گرین گوادر) پشتونخواملی عوامی پارٹی اور پشتونخوا سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے قائدین نے کہا ہے کہ ہمارا ملک اس وقت سنگین ترین بحرانوں میں گر چکا ہے، ملک کے غلط،آمرانہ،غیر جمہوری اقدامات کے خلاف آواز کو ریاست کے خلاف آواز سے تعبیر کرنا آمریت نواز قوتوں کا شروع سے وطیرہ رہا ہے اور آج تک آمریت نوازی کو دوام دینے اور مضبوط کرنے کا کام تسلسل سے لیا جارہا ہے جس کا خمیازہ عوام بھگت رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار پشتونخوامیپ کے مرکزی جنرل سیکرٹری عبدالرحیم زیارتوال، مرکزی سیکرٹری ڈاکٹر حامد خان اچکزئی، ضلع کوئٹہ کے سینئر معاون سیکرٹری نصیر احمد کاکڑ، پشتونخوا ایس او کے مرکزی آرگنائزر سیف اللہ خان، مرکزی مالیات آرگنائزر محمود اچکزئی، زونل آرگنائزر وارث افغان،زونل آفس آرگنائزر زبیر ترین،ڈاکٹر فورم ایسوسی ایشن کے سیکرٹری ڈاکٹر نور علی نے زرعی کالج کے نئے طلباء کے لیے استقبالیہ تقریب اور علاقائی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا جبکہ صدارتی خطاب پشتونخوا ایس او ضلع کوئٹہ کے سیکرٹری یار محمد بریال نے کی۔ کانفرنس میں اثک خان، قدیر خان، عصمت خان، تجمل خان،وسعت اللہ،ولی محمد، انعام کاسی،اریان خان، اسد خان کاکڑ، صدیق اللہ اور نقیب اللہ ایگزیکٹیوز منتخب ہوئے۔ نومنتخب ایگزیکٹیوز سے پشتونخوا ایس او کے مرکزی اطلاعات آرگنائزر اسفند یار کاکڑ نے حلف لیا۔ تلاوت کلام پاک کی سعادت ضلع معاون کوئٹہ طارق وطن پال جبکہ سٹیج سیکرٹری کے فرائض ضلع سینئر معاون سیکرٹری واسع سنزر نے سرانجام دیئے۔ مقررین نے کہا کہ زرعی یونیورسٹی اور بولان میڈیکل یونیورسٹی کی ایکٹ بننے کے بعد انہیں یونیورسٹیوں کی حیثیت نہ دینا سنگین ترین علم دشمنی کے سوا کچھ نہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومتوں سے ہمارا مطالبہ ہے کہ فوری طور پر زرعی یونیورسٹی اور بولان میڈیکل یونیورسٹی کا نوٹیفکیشن کا اجراء کیا جائے۔ مقررین نے پشتونخوا سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے کارکنوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں بہترین لائق محنتی اور اپنے شعبے میں ماہر طلباء چاہیے،صوبے کے دور دراز علاقوں میں بند سکولوں، غیر حاضر اساتذہ کی ضلع وائز فہرستیں اور پرنٹ میڈیا اور سوشل میڈیا پر مسلسل تشہیر پشتونخوا ایس او کی ذمہ داریوں میں شامل ہیں۔ ہم آج اس تقریب کی توسط سے ایک بار پھر اپنے معزز اساتذہ اور محکمہ تعلیم کے ذمہ دارں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ سرکاری تعلیمی نظام کو آگے لے جانے میں کوئی کسر نہ چھوڑے جبکہ محکمہ تعلیم 18مئی تک کتابیں فراہم نہ کرنے کے سنگین جرم کے مرتکب ہوئی ہیں جسے کسی صورت میں معاف نہیں کیا جائے گا۔ مقررین نے کہا کہ ملک میں سیاست، جمہوریت اور قومی جمہوری قوتوں کا راستہ روکنے کے لیے فارم47کے بھونڈے طریقے سے حکومت اور حکومتیں مسلط کی گئی۔ جس کے ذریعے آئین کا حولیہ بگاڑنے، پارلیمنٹ کی حیثیت، عدلیہ اور میڈیا کی آزادی ختم کرنے اور آئینی صوبائی خودمختاری پائمال کرنے سے ملک میں معاشی دویوالیہ پن، سیاسی عدم استحکام، مہنگائی اور بیروزگار ی میں اضافہ ہوا اور بجلی و گیس اور پینے کے صاف پانی مہیا نہ ہونے پر تمام ملک کے عوام کا جینا دو بھر کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے قیام سے تقریباً 15سال پہلے جیکب آباد کانفرنس میں پشتو کو تعلیمی،تدریسی،سرکاری، دفتری،کاروباری، مساجد اور مدرسوں میں رائج کرنے کی قرار داد پاس کی گئی تھی لیکن سندھی کے علاوہ آج تک ملک کے کسی بھی قوم کے قومی مادری زبان کو وہ حیثیت نہیں دی گئی ہے۔ اور آج ہمارا صوبہ دنیا کے پست ترین شرح خواندگی سے بھی پیچھے رہ گیا ہے اور فارم 47کی مسلط حکومت/حکومتوں نے رہی سہی کسر بھی پوری کردی ہے۔ تعلیمی بربادی کی اس صورتحال میں سب نے اپنا قومی فریضہ ادا کرنا ہوگا۔ مقررین نے کہا کہ ملک خارجی محاذ پر تنہائی کا شکار ہے اور اندرونی طور پر لوٹ کھسوٹ، رشوت، کرپشن، جھوٹ، دھوکہ دہی،اقرباء پروری سرعام جاری ہے۔ تمام سرکاری ملازمین فروخت ہورہی اور تمام ترقیاتی کاموں میں 52فیصد سے زیادہ محکمانہ اور فارم 47کے جیبوں میں جاری ہے ملک اورصوبے کی ترقی کی باتیں جھوٹ اور غریب کے سوا کچھ کچھ نہیں۔ترقی فارم 47کے جیبوں کی زور وشور سے جاری ہے اور فارم 47کا کوئی بھی ایم پی اے اس سے مبرا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں ایف سی کی تعیناتی عوام کو تنگ کرنے اور تجارت کاروبار کا راستہ روکنے کے لیے ہیں۔ بدامنی، دہشتگردی کرنے والوں کے جیبوں میں ایجنسیوں کے کارڈ ہیں صرف یہی نہیں ڈی سی کے نام پر اربوں روپے ایف سی کے کرنل حقیقی سیاسی قومی جمہوری کارکنوں کی حیثیت خراب کرنے پر لوٹ مار کرنے والوں کے جیبوں کے زینت بنتے جارہے ہیں۔ مقررین نے کہا کہ کارکن اپنی قومی سیاسی جمہوری جدوجہد کو منظم اور تنظیم کو فعال ومضبوط بناکر جاری جدوجہد میں اپنا کردار ادا کرے اور کسی قربانی سے دریغ نہیں کرینگے یہی جدوجہد قومی اہداف کے حصول تک ہمیں پہنچاسکتی ہے۔
ملک کے غلط،آمرانہ،غیر جمہوری اقدامات کیخلاف آواز کو ریاست کے خلاف آواز سے تعبیر کرنا آمریت نواز قوتوں کا شروع سے وطیرہ رہا ہے: پی ایس او

ٹیگز:
پی ایس او
