کوئٹہ (ڈیلی گرین گوادر) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی سیکریٹریٹ کے پریس ریلیز میں 23 اپریل کو منائے جانے والے عالمی یومِ کتاب (World Book Day) کے موقع پر کہا گیا ہے کہ یہ دن دنیا بھر میں کتاب بینی، علم دوستی، فکری بیداری اور انسانی شعور کے فروغ کی علامت کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یہ دن اس حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے کہ کتاب محض صفحات کا مجموعہ نہیں بلکہ تہذیبوں کی امین، اقوام کی رہنما اور معاشروں کی فکری تعمیر کا بنیادی وسیلہ ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ موجودہ دور، جو تیز رفتار معلوماتی انقلاب، سماجی تبدیلیوں، فکری کشمکش اور عالمی چیلنجز سے عبارت ہے، میں کتاب کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔ کتاب ہی وہ ذریعہ ہے جو انسان کو محض معلومات فراہم نہیں کرتی بلکہ اسے شعور، تحقیق، برداشت، تنقیدی فکر، دلیل اور حقیقت کو جانچنے کی صلاحیت عطا کرتی ہے۔ آج جب دنیا سطحی معلومات، افواہوں اور مصنوعی ذرائع ابلاغ کے دباؤ میں ہے، ایسے وقت میں کتاب انسان کے ذہن کو استحکام اور فکر کو گہرائی فراہم کرتی ہے۔ پریس ریلیز میں مزید کہا گیا کہ آج کے پیچیدہ عالمی اور علاقائی حالات میں، جہاں فکری انتشار، عدم برداشت، انتہا پسندی، سماجی تقسیم اور جھوٹی معلومات کا رجحان بڑھ رہا ہے، وہاں کتاب ایک متوازن، باشعور، بااخلاق اور ذمہ دار معاشرے کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ وہ قومیں جو علم، ادب، تحقیق اور مطالعے سے اپنا تعلق مضبوط رکھتی ہیں، نہ صرف ترقی کرتی ہیں بلکہ سیاسی، معاشی اور سماجی میدانوں میں درپیش مشکلات کا بہتر انداز میں مقابلہ بھی کرتی ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ کتاب انسان کو اپنی تاریخ، تہذیب، زبان، ثقافت اور اجتماعی اقدار سے جوڑتی ہے۔ کتاب ہی وہ ذریعہ ہے جو ماضی کے تجربات سے سیکھنے، حال کے مسائل کو سمجھنے اور مستقبل کے لیے درست فیصلے کرنے کی صلاحیت پیدا کرتی ہے۔ جو معاشرے کتاب سے دور ہو جاتے ہیں، وہ فکری طور پر کمزور، سماجی طور پر منتشر اور تعلیمی لحاظ سے پسماندہ ہو جاتے ہیں۔ پریس ریلیز میں اس امر پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا کہ ہمارے معاشرے میں مطالعے کا رجحان مسلسل زوال پذیر ہے۔ خاص طور پر نوجوان نسل سوشل میڈیا، فوری معلومات، مختصر ویڈیوز اور سطحی مواد کی طرف زیادہ مائل ہو رہی ہے، جس کے باعث گہرے مطالعے، سنجیدہ تحقیق، علمی مباحث اور فکری تربیت میں واضح کمی آ رہی ہے۔ یہ رجحان نہ صرف تعلیمی معیار کو متاثر کر رہا ہے بلکہ سماجی شعور، برداشت، مکالمے، دلیل اور اختلافِ رائے کو قبول کرنے کی روایت کو بھی کمزور کر رہا ہے، جو کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے خطرناک ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ موجودہ معاشی بحران، مہنگائی، بے روزگاری، وسائل کی غیر مساوی تقسیم اور تعلیمی سہولیات کی کمی کے باعث عام شہری کے لیے کتاب تک رسائی مزید مشکل ہو گئی ہے۔ کتابوں کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، لائبریریوں کی کمی، تعلیمی اداروں میں مطالعاتی ماحول کا فقدان اور علمی سرگرمیوں کی محدودیت نوجوان نسل کے روشن مستقبل میں رکاوٹ بن رہی ہے۔ خصوصاً صوبے سمیت پسماندہ علاقوں میں سرکاری لائبریریوں کا فقدان، دیہی علاقوں میں تعلیمی سہولیات کی کمی، سکولوں اور کالجوں میں معیاری کتب کی عدم دستیابی، اور جامعات میں تحقیق کے لیے ناکافی وسائل ایک بڑا المیہ ہے۔ اگر نئی نسل کو علم، تحقیق اور مطالعے کے زیور سے آراستہ نہ کیا گیا تو معاشرے میں پسماندگی، جہالت، انتہا پسندی اور فکری جمود مزید گہرا ہو سکتا ہے۔ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے وفاقی و صوبائی حکومتوں، تعلیمی اداروں، جامعات، ادبی تنظیموں اور متعلقہ حلقوں پر زور دیا کہ ایک جامع تعلیمی و مطالعاتی پالیسی تشکیل دی جائے، جس کے تحت ہر ضلع اور تحصیل کی سطح پر جدید عوامی لائبریریاں قائم کی جائیں۔ دور دراز علاقوں کے لیے موبائل لائبریری سروسز شروع کی جائیں۔ سالانہ کتاب میلوں، ادبی فیسٹیولز اور مطالعاتی سیمینارز کا انعقاد کیا جائے۔ نصاب میں معیاری ادب، تاریخ، فلسفہ اور تحقیق پر مبنی کتب شامل کی جائیں۔سکولوں، کالجوں اور جامعات میں مطالعہ کلب قائم کیے جائیں۔ اساتذہ کی تربیت اور طلبہ میں کتاب دوستی پیدا کرنے کے لیے خصوصی پروگرامز ترتیب دیے جائیں۔ مقامی زبانوں پشتو، بلوچی، براہوی، سرائیکی اور دیگر زبانوں کے ادب کے فروغ کے لیے خصوصی فنڈز مختص کیے جائیں۔ بیان میں کہا گیا کہ کسی بھی قوم کی ترقی کا راز اس کے تعلیمی نظام، تحقیقی اداروں اور مطالعے کے رجحان میں پوشیدہ ہوتا ہے۔ اگر ہم ایک روشن، ترقی یافتہ، پرامن اور باوقار مستقبل چاہتے ہیں تو ہمیں کتاب سے اپنا رشتہ مضبوط کرنا ہوگا۔ بیان کے اختتام پر پارٹی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ علم و ادب کے فروغ، کتاب دوستی کے کلچر کی ترویج، نوجوان نسل کی فکری تربیت اور معاشرے میں شعور و آگہی پیدا کرنے کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ عوام، خصوصاً نوجوانوں، طلبہ، اساتذہ اور والدین سے اپیل کی گئی کہ وہ کتاب کو اپنی زندگی کا لازمی حصہ بنائیں، روزمرہ معمولات میں مطالعے کو شامل کریں اور علم کے ذریعے ایک پرامن، ترقی یافتہ، مہذب اور روشن معاشرے کے قیام میں اپنا کردار ادا کریں۔
کتاب محض صفحات کا مجموعہ نہیں بلکہ تہذیبوں کی امین، اقوام کی رہنما اور معاشروں کی فکری تعمیر کا بنیادی وسیلہ ہے : پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی

ٹیگز:
پشتونخوا نیشنل
