ڈیرہ مراد جمالی (ڈیلی گرین گوادر) بلوچستان گرینڈ الائنس کے مرکزی آرگنائزر پروفیسر عبد القدوس کاکڑ کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی وفد نے پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے مرکزی سیکریٹریٹ میں پارٹی کے صوبائی صدر نصراللہ خان زیرے اور صوبائی آفس سیکریٹری ندا سنگر سے تفصیلی اور اہم ملاقات کی۔ ملاقات میں صوبے کی مجموعی سیاسی و انتظامی صورتحال، ملازمین کی جاری احتجاجی تحریک، حکومت کے غیر سنجیدہ طرزِ عمل اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا، جبکہ حکومتی رویے پر نہایت سخت اور واضح مؤقف اختیار کیا گیا۔ ملاقات کے دوران وفد اور پارٹی قیادت کے درمیان صوبے میں جاری ملازمین کی تحریک، حکومت کے ساتھ ہونے والے مذاکرات، مطالبات کی عدم منظوری اور مسلسل غیر سنجیدگی پر مبنی طرزِ عمل پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔ وفد نے ملازمین کو درپیش سنگین مسائل، ان کے دیرینہ مطالبات، تنخواہوں اور مراعات کے معاملات، سروس اسٹرکچر، الاؤنسز اور حکومتی وعدہ خلافیوں کو تفصیل کے ساتھ اجاگر کرتے ہوئے واضح کیا کہ اب مزید تاخیری حربے کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہوں گے۔ اس موقع پر نصراللہ خان زیرے نے انتہائی سخت لہجے میں کہا کہ ملازمین کسی بھی ریاستی ڈھانچے کی بنیاد، انتظامی نظام کی روح اور حکومتی مشینری کی ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں، مگر بدقسمتی سے بلوچستان میں انہی ملازمین کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے آل پارٹیز کمیٹی کے پلیٹ فارم پر بلوچستان گرینڈ الائنس کے ساتھ جو واضح وعدے، یقین دہانیاں اور معاہدے کیے تھے، ان پر عملدرآمد نہ کرنا حکومتی سنجیدگی، نیت اور صلاحیت پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملازمین کے مسائل محض چند افراد یا محکموں کے مسائل نہیں بلکہ یہ پورے صوبے کے انتظامی، تعلیمی، طبی اور ترقیاتی نظام سے جڑے ہوئے ہیں۔ جب ملازمین ذہنی دباؤ، معاشی مشکلات اور غیر یقینی صورتحال کا شکار ہوں تو اس کے اثرات براہِ راست عوامی خدمات پر پڑتے ہیں۔ لہٰذا حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ فوری طور پر سنجیدگی کا مظاہرہ کرے اور مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کرے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے فوری طور پر اپنے وعدوں پر عملدرآمد نہ کیا تو حالات مزید کشیدہ ہو سکتے ہیں، جس کی تمام تر ذمہ داری صوبائی حکومت پر عائد ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر ضروری تاخیر نے خصوصاً دور دراز، پسماندہ اور دشوار گزار علاقوں میں فرائض سرانجام دینے والے ملازمین کو شدید ذہنی دباؤ، بے چینی اور مایوسی کا شکار کر دیا ہے، جو کسی بھی صورت ایک صحت مند انتظامی نظام کے لیے نقصان دہ ہے۔ نصراللہ خان زیرے نے دو ٹوک انداز میں واضح کیا کہ پشونخوا نیشنل عوامی پارٹی ہر سطح پر ملازمین کے حقوق کی جدوجہد میں ان کے ساتھ کھڑی ہے اور کسی بھی قسم کی ناانصافی، تاخیری حربوں، وعدہ خلافی یا استحصالی رویے کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی آل پارٹیز کمیٹی سمیت ہر سیاسی، جمہوری اور آئینی فورم پر ملازمین کے جائز حقوق کے حصول کے لیے بھرپور اور مؤثر آواز اٹھاتی رہے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈی آر اے (DRA) سمیت دیگر تمام بنیادی مطالبات محض اعلانات، کمیٹیوں یا زبانی وعدوں تک محدود نہیں رہنے چاہئیں بلکہ ان پر فوری اور عملی اقدامات کیے جائیں۔ اگر حکومت نے سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کیا تو احتجاجی دائرہ کار کو مزید وسیع کرنے، صوبہ گیر تحریک چلانے اور سخت عوامی ردعمل کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں بچے گا۔ ملاقات کے اختتام پر اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ باہمی رابطوں، مشاورت اور سیاسی تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے گا تاکہ ملازمین کے مسائل کے حل کے لیے ایک مشترکہ، منظم، فعال اور مؤثر حکمت عملی اختیار کی جا سکے۔ وفد اور پارٹی قیادت نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ملازمین کے حقوق کے تحفظ، حکومتی وعدوں پر عملدرآمد اور انصاف کے حصول کے لیے مشترکہ جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔
پروفیسر عبد القدوس کاکڑ کی قیادت میں وفد کی نصراللہ خان زیرے سے ملاقات ` حکومت کے غیر سنجیدہ طرزِ عمل اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تفصیلی تبادلۂ خیال

ٹیگز:
نصراللہ خان زیرے
