کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) معروف سیاسی و سماجی رہنماء حافظ محمد ابراہیم محمد حسنی نے سوئی سدرن گیس کمپنی کی جانب سے گیس کی فراہمی بالکل بند کردی گئی ہے جو برائے نام لوڈشیڈنگ کا اعلان کیا گیا ہے غیر لوڈشیڈنگ اوقات میں کوئٹہ کے اکثر علاقوں میں کھانے پکانے کے لئے بھی گیس دستیاب نہیں ہے اوپر سوئی سدرن کمپنی بل بھی 6000 روپے تک فی گھر بھیج رہا ہے گیس شہر میں اتنا بھی دستیاب نہیں کہ کھانا پکایا جاسکے سوئی سدرن گیس کمپنی سے کوئی پوچھنے والا تک نہیں۔ اپنے ایک بیان میں حافظ ابراہیم محمد حسنی نے کہا کہ گیس کی لوڈشیڈنگ اور کم پریشر کے باعث گھریلو نظام درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے، خاص طور پر اوقاتِ طعام میں گیس کی بندش نے عوام کو شدید ذہنی اذیت میں مبتلا کر رکھا ہے۔ انہوں نے موجودہ معاشی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے اس دور میں غریب عوام کے لیے متبادل ذرائع مثلاً ایل پی جی یا بجلی کا استعمال بھی اب ممکن نہیں رہا، کیونکہ ان کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہیں۔حافظ ابراہیم محمد حسنی نے سوئی سدرن گیس کمپنی کے حکام سے مطالبہ کیا کہ گیس کی بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو اس شدید مہنگائی اور مشکلات کے دور میں کچھ ریلیف مل سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بنیادی سہولیات کی فراہمی میں اسی طرح رکاوٹیں ڈالی جاتی رہیں تو عوام کا جینا محال ہو جائے گا۔
گیس کمپنی عوام کے لئے درد سر بن کر رہ گئی ہے، حافظ ابراہیم محمد حسنی

ٹیگز:
گیس کمپنی
