کوئٹہ (ڈیلی گرین گوادر)ڈائریکٹوریٹ آف انکوائریز اینڈ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ بلوچستان نے لورالائی میں محکمہ آبپاشی (اریکیشن ڈیپارٹمنٹ) کے فنڈز میں کروڑوں روپے کی مبینہ بدعنوانی اور غبن کے کیس میں ایک اور اہم پیش رفت کی ہے۔مذکورہ کیس میں درج ایف آئی آر نمبر 2026/L/2 کے تحت روپوش اور مفرور ملزم، سابقہ ایکسین (XEN) فضل الرحمان کو اینٹی کرپشن ٹیم نے آج ایک کامیاب کارروائی کے دوران گرفتار کر لیا ہے۔ فضل الرحمان اس کیس کے مرکزی ملزمان میں شامل تھے جو ایف آئی آر کے اندراج کے بعد سے گرفتاری سے بچنے کے لیے روپوش تھے۔یاد رہے کہ اس سے قبل اسی کیس میں آٹھ (5) دیگر ملزمان بشمول سابقہ ایکسین (XEN) جہانزیب خان کاکڑ، غلام مصطفیٰ اور متعلقہ ٹھیکیداروں کو پہلے ہی گرفتار کیا جا چکا ہے۔ ان تمام ملزمان پر لورالائی میں ڈیمز کی تعمیر کے لیے مختص سرکاری فنڈز میں سنگین بے ضابطگیوں اور خورد برد کے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔ گرفتار ملزم فضل الرحمان سے مزید تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے تاکہ اس بدعنوانی کے تمام حقائق اور مزید ممکنہ کرداروں کو سامنے لایا جا سکے۔وزیراعلیٰ بلوچستان جناب سرفراز احمد بگٹی صاحب کے ویڑن کے مطابق، صوبے سے بدعنوانی کے خاتمے کے لیے یہ مہم بلا امتیاز جاری رہے گی۔
اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ بلوچستان نے مفرور ملزم ایکسین فضل الرحمان کوگرفتارکرلیا

ٹیگز:
اینٹی کرپشن
