اسلام آباد (ڈیلی گرین گوادر) پاکستان انجینئرنگ کونسل (پی ای سی) نے اپنے فلیگ شپ گریجویٹ انجینئر ٹرینی (GET) پلیسمنٹ پروگرام کے دوسرے بیچ کے لیے ڈیجیٹل قرعہ اندازی مکمل کر لی ہے، جس کے تحت 1,700 نئے انجینئرنگ گریجویٹس کو ملک بھر میں چھ ماہ کی صنعتی تربیت کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔تقریب پی ای سی کے ریجنل آفس لاہور میں منعقد ہوئی، جہاں چیئرمین پی ای سی انجینئر وسیم نذیر نے عمل کا افتتاح کیا، جبکہ پی ای سی ہیڈکوارٹرز سے سینئر افسران اور گورننگ باڈی کے ارکان نے آن لائن شرکت کی۔اس پروگرام کے دوسرے بیج کے لیے مجموعی طور پر 5,300 امیدواروں نے آن لائن درخواست دی، جن میں سے اسکریننگ کے بعد 3,982 امیدواروں کو شارٹ لسٹ کیا گیا، جبکہ 1,700 امیدواروں کو شفاف ڈیجیٹل قرعہ اندازی کے ذریعے حتمی طور پر منتخب کیا گیا۔پی ای سی حکام کے مطابق یہ پروگرام مخصوص آن لائن پورٹلز کے ذریعے نافذ کیا جا رہا ہے، جو ٹریننگ فراہم کرنیوالے اداروں اور انجینئرز دونوں کے لیے دستیاب ہیں۔ ملک بھر میں سرکاری اور نجی شعبے کی معروف تنظیموں کے ساتھ شراکت داری قائم کی گئی ہے تاکہ منظم تربیتی مواقع فراہم کیے جا سکیں۔کل نشستوں میں سے 300 نشستیں بلوچستان کے انجینئرنگ گریجویٹس کے لیے مختص کی گئی تھیں، جو مکمل طور پر صوبے کے امیدواروں سے پُر کر لی گئی ہیں۔ باقی 1,400 امیدواروں کا انتخاب پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان سے کیا گیا۔چیئرمین پاکستان انجینئرنگ کونسل انجینئر وسیم نذیر نے کہا کہ بلوچستان کے گریجویٹس کے لیے خصوصی کوٹہ صوبے کے نوجوانوں کے لیے مواقع بڑھانے، انہیں قومی انجینئرنگ شعبے میں مؤثر انداز میں شامل کرنے کے لیے متعارف کرایا گیا ہے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پی ای سی نے جی ای ٹی پروگرام کو ایک انقلابی اقدام قرار دیا، انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کا مقصد نوجوان انجینئرز کو عملی اور صنعتی مہارتوں سے آراستہ کرنا ہے۔ پی ای سی میرٹ، شفافیت اور تمام علاقوں کے لیے مساوی مواقع کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے، جبکہ بلوچستان کے لیے مکمل کوٹہ اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ ایک متوازن اور جامع پیشہ ورانہ ماحول تشکیل دیا جائے۔انجینئر وسیم نذیر نے مزید کہا کہ نئے گریجویٹس میں سرمایہ کاری پاکستان کی انجینئرنگ صلاحیت کو مضبوط کرے گی اور پائیدار قومی ترقی میں مددگار ثابت ہوگی۔گریجویٹ انجینئر ٹرینی پروگرام پی ای سی کی مکمل فنڈنگ سے چلنے والا چھ ماہ کا “ہاؤس جاب” طرز کا اقدام ہے، جس میں پانچ ماہ فیلڈ ایکسپوژر اور ایک ماہ مہارتوں کی ترقی شامل ہے۔ اس کے تحت ماہانہ 50,000 روپے وظیفہ دیا جائے گا اور کامیاب تکمیل پر کیو آر کوڈ ویری فکیشن کے ساتھ مشترکہ سرٹیفکیٹ جاری کیا جائے گا۔
پی ای سی نے گریجویٹ انجینئر ٹرینی پروگرام کے دوسرے بیچ کے لیے ڈیجیٹل قرعہ اندازی مکمل کر لی، 1,700 نئے انجینئرنگ گریجویٹس منتخب

ٹیگز:
پی ای سی
