کوئٹہ (ڈیلی گرین گوادر) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی ایگزیکٹو کا اجلاس گزشتہ روز سمنگلی میں ملک آصف خان کاسی کے مہمان خانہ پر منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت پارٹی کے صوبائی صدر نصراللہ خان زیرے نے کی۔اجلاس میں پارٹی کے سینئر ڈپٹی چیئرمین سابق سینیٹر رضا محمد رضا، سینئر سیکرٹری سید عبدالقادر آغا ایڈووکیٹ، مرکزی سیکرٹری اطلاعات محمد عیسیٰ روشان ،مرکزی سیکرٹری ڈاکٹر بایزید روشان ، مرکزی سیکرٹری اللہ نور خان چیرمین سمیت صوبائی ایگزیکٹو کے اراکین نے شرکت کی۔ اجلاس کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کے بعد گزشتہ کارکردگی کی تفصیلی رپورٹ پیش کی گئی۔ رپورٹ پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے آئندہ کے لائحۂ عمل کے حوالے سے اہم فیصلے کیے گئے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سینئر ڈپٹی چیئرمین رضا محمد رضا اور دیگر رہنماؤں نے کہا کہ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی پشتون افغان غیور ملت کی نمائندہ قومی سیاسی جماعت ہے۔ پارٹی اپنے اسلاف کے نظریات پر کاربند رہتے ہوئے پشتون قومی حقِ خودمختاری کے حصول کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے کو تیار ہے۔رہنماؤں نے کہا کہ ملک میں اس وقت ایک مستقل ہائبرڈ نظام مسلط ہے جس کے باعث جمہوری و آئینی ادارے کمزور ہو چکے ہیں۔ اور حالیہ آئینی ترامیم نے آئین کی روح کو متاثر کیا ہے اور انصاف کا نظام شدید دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیکا ایکٹ کے ذریعے آزادیٔ صحافت کو محدود کیا گیا ہے، جو جمہوری اقدار کے منافی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی ملک کی تمام اقوام بالخصوص پشتون، بلوچ، سندھی اور سرائیکی اقوام اور دیگر محکوم و مظلوم عوام کے حقِ حکمرانی اور حقِ ملکیت کی مستقل حامی رہی ہے۔ پارٹی پرامن اور جمہوری جدوجہد پر یقین رکھتی ہے اور اپنے قومی حقوق کے حصول کے لیے آئینی اور سیاسی ذرائع کو بروئے کار لاتی رہے گی۔ دیگر اقوام سے بھی توقع کی گئی کہ وہ پرامن جدوجہد کو فروغ دیں اور خطے کو تصادم کا میدان بنانے سے گریز کریں۔رہنماؤں نے فریقین پر زور دیا کہ پشتونخوا کی سرزمین اور بالخصوص جنوبی پشتونخوا کے مرکز کوئٹہ اور دیگر پشتون علاقوں کو جنگی مقاصد کے لیے استعمال نہ کیا جائے اور اپنے طرزِ عمل میں ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔افغانستان کی صورتحال پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے رہنماؤں نے کہا کہ وہاں انسانی حقوق، بالخصوص خواتین کے حقوق اور تعلیم پر عائد پابندیاں قابلِ تشویش ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ افغانستان میں ایک نمائندہ لویہ جرگہ بلایا جائے، جس کے ذریعے نئے آئین کی تشکیل کی جائے اور آزادانہ و شفاف انتخابات کا انعقاد کر کے اقتدار عوام کے منتخب نمائندوں کے حوالے کیا جائے، تاکہ ملک میں حقیقی جمہوری نظام قائم ہو سکے۔اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ پارٹی اپنی قومی و جمہوری جدوجہد کو مزید منظم اور مؤثر انداز میں جاری رکھے گی۔
پارٹی اپنے اسلاف کے نظریات پر کاربند رہتے ہوئے پشتون قومی حقِ خودمختاری کے حصول کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے کو تیار ہے : پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی

ٹیگز:
پشتونخوا نیشنل
