اسلام آباد (ڈیلی گرین گوادر) پاکستان انجینئرنگ کونسل (PEC) نے کے این کے (KnK) جاپان، پاکستان، نیشنل ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ فنڈ (NDRMF) اور جی آئی ذیڈ (GIZ) پاکستان کے اشتراک سے اسلام آباد میں منعقدہ Capacity Development for Climate-Resilient Infrastructure (CD-CRI) تقریب کے دوران ایک جدید اسٹرکچرل ہیلتھ اسیسمنٹ (SHA) سسٹم کا اجرا کیا۔ یہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم انجینئرز کو اسکولوں، ہسپتالوں اور دیگر اہم عوامی انفراسٹرکچر کا جائزہ لینے اور انہیں مضبوط بنانے میں معاونت فراہم کرے گا، خصوصا وہ عمارتیں جو موسمیاتی تبدیلیوں اور آفات کے خطرات سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں۔ایس ایچ اے سسٹم ڈیٹا پر مبنی فیصلوں کے ذریعے عمارتوں کے تعمیراتی نقائص کو کم کرنے اور موسمیاتی خطرات و قدرتی آفات کے مقابلے میں لچکدار بنانے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ خطرات سے دوچار عمارتوں کو محفوظ اور مضبوط اثاثوں میں تبدیل کرنے کے ذریعے یہ اقدام پاکستان بھر میں محفوظ انفراسٹرکچر اور پائیدار ترقی کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔اس موقع پر پی ای سی، این ڈی آر ایم ایف اور کے این کے جاپانپاکستان کے مابین ایک مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط کیے گئے تاکہ اس نظام کو ملک بھر میں نافذ کرنے اور اس کی طویل المدتی پائیداری کو یقینی بنایا جا سکے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین PEC انجینئر وسیم نذیر نے کہا، لچک محض کسی منصوبے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک قومی عزم ہے۔ اس اقدام کے ذریعے PEC انجینئرز کو جدید آلات فراہم کر رہا ہے تاکہ بڑھتے ہوئے موسمیاتی اور آفات کے خطرات کے خلاف انسانی جانوں، انفراسٹرکچر اور کمیونٹیز کا تحفظ کیا جا سکے۔پاکستان انجینئرنگ کونسل نے NDRMF اور GIZ پاکستان کی معاونت کو سراہتے ہوئے بلال انور سی ای او NDRMF، ڈاکٹر نکولائی ڈیلمن (GIZ)، الیکس فوربس (UNRCO)، اور ڈاکٹر قیصر علی اینڈ ایسوسی ایٹس کی قیادت اور خدمات پر شکریہ ادا کیا۔ CD-CRI منصوبہ جرمن وفاقی وزارت برائے اقتصادی تعاون و ترقی (BMZ) کے تعاون سے مالی اعانت حاصل کر رہا ہے اور GIZ GmbH کی معاونت سے نافذ کیا جا رہا ہے، جو پاکستان میں موسمیاتی لچکدار انفراسٹرکچر کے لیے مضبوط بین الاقوامی تعاون کی عکاسی کرتا ہے۔
پی ای سی کا پاکستان میں موسمیاتی لچکدار انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانے کے لیے جدید اسٹرکچرل ہیلتھ اسیسمنٹ سسٹم کا اجرا

ٹیگز:
پی ای سی
