کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) جمعیت علما اسلام نظریاتی پاکستان کے مرکزی امیر مولانا عبدالقادر لونی، جنرل سیکرٹری مفتی شفیع الدین اور مرکزی سیکرٹری اطلاعات سید حاجی عبدالستارشاہ چشتی نے کہا ہے کہ ملک میں گندم اور چینی وافر مقدار میں موجود ہونے کے باوجود پنجاب اور سندھ سے بلوچستان میں آٹے اور چینی کی سپلائی پر پابندی نے عوام کو شدید مشکلات میں مبتلا کر دیا ہے۔رہنماوں نے کہا کہ کوئٹہ میں تاجروں کے گوداموں اور دکانوں میں ایک بھی بوری چینی دستیاب نہیں، جبکہ کراچی اور پنجاب میں چینی ڈیڑھ سو روپے فی کلو دستیاب ہے، لیکن کوئٹہ میں قیمت 200 سے 222 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے۔ اسی طرح آٹے کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں، اور عوام مہنگائی کی چکی میں دن بدن پس رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کی پالیسیاں عوام کو ریلیف دینے میں ناکام ہیں اور حکمران عوام پر بوجھ ڈالنے کے بجائے وزرا، مشیروں، ججز، جرنیلوں اور بیوروکریٹس کی مراعات اور پرتعیش طرز زندگی میں کمی لائیں۔ انہوں نے کہا کہ کرپشن اور بدعنوانی ملک کی معیشت کو کھوکھلا کر رہی ہے اور تاجروں کے کاروبار بھی متاثر ہو رہے ہیں۔جمعیت علما اسلام نظریاتی نے وزیراعلی بلوچستان، گورنر اور چیف سیکرٹری سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر وفاق اور پنجاب حکومت سے رابطہ کرکے چینی اور آٹے کی وافر مقدار کی سپلائی یقینی بنائی جائے تاکہ رمضان المبارک سے قبل عوام کو ریلیف مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے فوری اقدامات نہ کیے تو تاجر اور عوام شدید احتجاج پر مجبور ہوں گے۔
بلوچستان میں آٹا اور چینی کی قلت، جمعیت علما اسلام نظریاتی پاکستان کا شدید احتجاج

ٹیگز:
بلوچستان
