اسلام آباد (ڈیلی گرین گوادر) مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت عربوں کی پیٹھ میں خنجر گھونپا گیا۔پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کو حماس کو غیر مسلح کرنے کی کسی مہم کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ قیام پاکستان کے ایک سال بعد اسرائیل وجود میں آیا، فلسطین کی سرزمین پر اسرائیل کی ریاست قائم کی گئی، لیگ آف نیشنز کمیٹی نے یہودیوں کی دربدری کی رپورٹ مرتب کی تھی، لیگ آف نیشنز کمیٹی نے بھی کہا تھا کہ انہیں فلسطین میں آباد نہ کیا جائے۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت عربوں کی پیٹھ میں خنجر گھونپا گیا، انہوں نے ٹرمپ کے تشکیل کردہ بورڈ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس میں فلسطینی تو شامل نہیں لیکن نیتن یاہو کو شامل کیا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو حماس اور فلسطینیوں کے موقف کو دیکھنا چاہیے، حکومت کا فرض ہے کہ وہ بتائے کہ کیا فیصلے کئے جا رہے ہیں؟جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ آپ ایوان کو اعتماد میں نہیں لے رہے مگر کیا کابینہ کو اعتماد میں لیا؟
منصوبے کے تحت عربوں کی پیٹھ میں خنجر گھونپا گیا ` مولانا فضل الرحمان

ٹیگز:
فضل الرحمان
