لاہور(ڈیلی گرین گوادر)حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان کی سیکرٹری جنرل ڈاکٹر حمیرا طارق اور ڈپٹی سیکرٹری و ڈائریکٹر میڈیا سیل ثمینہ سعید نے نشر ہونے والے ڈرامہ “میری زندگی” میں شامل ایسے مندرجات کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے جو اسلامی اخلاقیات، خاندانی اقدار اور پاکستانی معاشرتی روایات کے صریح خلاف ہیں۔انہوں نے کہا کہ مذکورہ ڈرامے میں ایک نام نہاد ٹرانس جینڈر کردار (جو بائیولوجیکل طور پر مرد ہے) کو خاندانی و فیملی کردار کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، جو دانستہ طور پر معاشرے میں حیا، اخلاقیات، صنفی حدود اور اسلامی اقدار کے منافی تصورات کو نارملائز کرنے کی کوشش ہے۔ اس قسم کا مواد نہ صرف عوام کے مذہبی جذبات کو شدید مجروح کرتا ہے بلکہ پاکستان کے آئینی، اخلاقی اور سماجی تشخص سے بھی کھلی ٹکر رکھتا ہے۔ڈاکٹر حمیرا طارق اور ثمینہ سعید نے واضح کیا کہ اس نوعیت کی نشریات PEMRA کے ضابطۂ اخلاق اور ملکی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ:PEMRA Ordinance 2002 کے مطابق کوئی بھی لائسنس یافتہ چینل ایسا مواد نشر کرنے کا مجاز نہیں جو اخلاقیات، شائستگی، مذہبی و سماجی اقدار اور عوامی مفاد کے خلاف ہو۔Electronic Media Code of Conduct 2015 اس امر کا پابند بناتا ہے کہ پروگرامز کا مواد پاکستانی معاشرتی و مذہبی حساسیت کے منافی نہ ہو اور کسی بھی قسم کے فکری یا اخلاقی بگاڑ کا باعث نہ بنے۔PEMRA Rules 2009 کے تحت ہر پروگرام اور اشتہار کا مواد PEMRA Ordinance اور طے شدہ ضابطۂ اخلاق کے عین مطابق ہونا لازم ہے۔انہوں نے اس قابلِ اعتراض اور گمراہ کن مواد پر شدید احتجاج کرتے ہوئے وزارتِ مذہبی امور سے مطالبہ کیا کہ وہ اس نہایت حساس اور اہم معاملے پر فوری نوٹس لے کر متعلقہ اداروں، بالخصوص PEMRA اور وزارتِ اطلاعات سے رابطہ کرے اور درج ذیل اقدامات یقینی بنائے:ڈرامہ “میری زندگی” میں شامل اخلاقی حدود سے متجاوز مواد کو فوری طور پر بند یا نشر ہونے سے روکا جائے۔آئندہ اس نوعیت کے مواد کی روک تھام کے لیے واضح، سخت اور مؤثر ہدایات جاری کی جائیں اور مانیٹرنگ کا مربوط نظام فعال کیا جائے۔انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ محض تفریح یا ڈرامہ سازی کا نہیں بلکہ ہماری نئی نسل کی فکری و اخلاقی تربیت، خاندانی نظام کے تحفظ اور معاشرتی امن و اقدار سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔ وزارتِ مذہبی امور پر لازم ہے کہ وہ اپنی آئینی اور اخلاقی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے فوری، واضح اور عملی اقدام اٹھائے۔مزید برآں ڈپٹی سیکرٹری ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی،ڈاکٹر زبیدہ جبیں ، عطیہ نثار ،عفت سجاد ، عائشہ سید (سابقہ ایم این اے )نے بھی اخلاقی اقدار کے منافی ڈرامے کی نشریات کو فوری بند کروانے کا مطالبہ کیا ہے
اخلاقی اقدار اور خاندانی نظام پر حملہ ناقابلِ قبول ڈرامہ “میری زندگی” کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ` ڈاکٹر حمیرا طارق`ثمینہ سعید

ٹیگز:
حمیرا طارق
