ڈیرہ مراد جمالی (ڈیلی گرین گوادر) سابق صوبائی وزیر میر سکندرعلی خان عمرانی نے تمبو میں خواتین پر پولیس کی جانب سے ایف آئی ار کے اندراج کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے پولیس کی کھلی غنڈہ گردی قرار دیا ہے اور وزیراعلی بلوچستان اور ائی جی پولیس بلوچستان سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی غیر جانبداری تحقیقات کروائی جائے ایف آئی ار کو ختم کرکے خواتین کو انصاف فراہم کیا جائے یہاں جاری کردہ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ گزشتہ دنوں تمبو میں شبنم عمرانی نے پولیس کی زیادتیوں دھونس و دھمکیوں انکی زرعی اراضیات پر نا جائز قبضہ کرنے اور اے روز انکے گاوں پر فائرنگ کے واقعات کے خلاف وہ دیگر سینکڑوں خواتین کے ہمراہ پر امن احتجاجی ریلی نکالنے کی کوشش کی تو ایک ڈی ایس پی اور تین تھانوں کے ایس ایچ اوز بھاری پولیس کی نفری کے ہمراہ بزور طاقت انکو ریلی نکالنے سے روک دیا اس دوران پولیس نے خواتین پر تشدد کیا انکو زدوکوب کیا گیا جس سے متعدد خواتین زخمی بھی ہو گئیں جبکہ پولیس نے خواتین کو گرفتار کرکے لاکب کیا گیا اور مسلسل تین سے چار گھنٹوں تک خواتین جن میں شبنم انکی بہن ودیگر خواتین بھی شامل ہیں انکو حبس بے جا میں رکھا گیا مظلوم خواتین پر مظالم کے پہاڑ ڈھائے گئے پولیس چادروچاردیواری کے تقدس کو پامال کیا نہتی مظلوم صواتین کے ساتھ انسانیست سوز سلوک روا رکھا گیا بلوچی رسم ورواج کی پامالی کی گئی اس واقعے کے چار روز گزرنے کے بعد شبنم سمیت دیگر خواتین پر من گھڑت بے بنیاد ایف آئی ار درج کرکے بلوچی قبائلی معاشرتی اقدار کو پامال کیا گیا ہے اپنے حق کی جدودجہد کرنے والی نہتی مظوم خواتین پر مقدمہ درج کرنا پولیس کی کھلی دہشت گردی ہے جسکی جتنی بھی مذمت کی جاے وہ کم ہے انہوں نے انسانی و خواتین حقوق کی تنظمیوں سے اپیل کی کہ وہ تمبو کی نہتی ظلم و جبر کا شکار مظوم خواتین کا ساتھ دیں انکو انصاف کی فراہمی کے لیے اپنا کردار ادا کریں انہوں نے وزیراعلی بلوچستان اور ائی جی پولیس بلوچستان سے بھی اپیل کی کہ وھ واقعے کا نوٹس لیں قبائلی معاشرے میں خواتین پر نا جائز ایف آئی ار کا اندراج جگھڑے اور فساد کا باعث بن سکتاہے اسطرح کی حرکتوں سے اجتناب کیا جاے درج ایف آئی ار کو فوری طورپر ختم کرکے نہتی اور مظوم خواتین کو انصاف فراہم کیا جائے
شبنم عمرانی کے خلاف دائر ایف آئی آر واپس لی جائے،میر سکندرعلی خان عمرانی

ٹیگز:
سکندرعلی
