لوراالائی(ڈیلی گرین گوادر) جے یو آئی کے صوبائی امیر سینیٹر مولانا عبد الواسع نے مدرسہ مخزن العلوم میں اور کلی چنالی میں مولوی محمد ہاشم زخپیل کے گھر پر قبائلی معزیزین اور پارٹی کارکنوں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جے یوآئی مستقبل کے چیلنجز سے بخوبی آگاہ ہے ہم ملک کے سرحدوں اور دین اسلام کا تحفظ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں علماء قوم کی خدمت کو سعادت سمجھ کر کرہی ہے ہم سیاست کو عبادت سمجھ کر جبکہ دیگر جماعتیں زاتی مفادات لالچ کمیشن اور کرپشن کے طور پر کرتے ہیں یہ ہمارا اور دیگر جماعتوں کے درمیان بڑا امتیاز ہے انہوں نے کہا کہ ملک میں سیکولر ازم کمیونزم اور سرمایہ دارانہ نظام کیلئے کوئی جگہ نہیں اسلام ہی اس ملک کا نظام ہوگا انہوں نے کہا کہ ہمیں دیوار سے نہ لگایا جائے ہم ملک کے اصل خیر خوا ہیں اور جمہوری وپارلیمانی جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں ہم ملک میں کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے الیکشن کے زریعے اسمبلیوں میں پہنچ کر اللہ کے نظام کو نافذ کرینگے ملک اسلام کے نام پر بنا لیکن دشمن قوتوں کے ایماء پر ہمیں اس سے آج تک محروم رکھا گیا بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح اور علامہ اقبال بھی ملک کو اسلامی فلاحی مملکت بنانے کے حامی تھے انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کو 135ارب میں اسکی نج کاری اور فروخت سے حکومت کو صرف دس ارب روپے ملینگے جوکہ قابل حیرت بات ہے ملک کی پہچان کو اس طرع اونے پونے فروخت کرنے کی شدید مزمت کرتے ہیں حکومت سرکاری ادارے نہیں چلاسکتے تو حکومت کرنے کابھی کوئی جواز باقی نہیں رہتا دوسرے طرف حکومت نجی دینی مدارس کو سرکاری تحویل میں لینا چاہتی ہے جوکہ حکومت کی خام خیالی ہے حکومت بد انتظامی اور کرپشن کو روکھنے کے بجائے ادارے بیچ رہی ہے انہوں نے کہا کہ اسٹیلشمنٹ کو خبردار کرتے ہیں کہ وہ سیاست میں مداخلت سے توبہ کریں اور اپنی آئینی ذمہ داری سنبھالیں سیاست کرنا سیاسی رہنماوں کا کام ہے آئین پر عمل کرنا ہر ادارے اور سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری ہے اس سے ردگردانی سے ملک کی جڑیں کمزور ہو رہی ہیں ہمارے قائد مولانا فضل الرحمان کے پاس ملک کو تمام بحرانوں سے نکالنے کا فارمولا اور راستہ موجود ہے حکومت غزہ میں حماس کو غیر مسلح کرنے کیلئے فوج نہ بھیجے ہم اسکی کسی صورت بھی اجازت نہیں دینگے جے یو آئی کے بغیر نہ حکومت چل سکتی ہے اور نہ ہی پارلیمنٹ انہوں نے کہا کہ ہم حکومت کے خلاف فی الوقت تحریک خود چلارہے ہیں لیکن دیگر جماعتوں سے رابطوں میں ضرور ہیں انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ اپوزیشن کو مل کر 8 فروری 2024 کے جعلی الیکشن کے خلاف متحد ہوکر تحریک جلانے کی ضرورت ہے ہم نے اپنی تحریک الیکشن کے فوری بعد ہی شروع کر دی ہے موجودہ حکومت جعلی مینڈیٹ کے زریعے وجود میں آئے جسکو کسی صورت ماننے کو تیار نہیں ہیں انہوں نے کہا کہ سیاست میں بات چیت کے دروازے بند نہیں ہوتے مناسب وقت پر عوام کو سڑکوں پر نکلنے کیلئے مولانا فضل الرحمان کال دینگے اس وقت حکومت نام کی کوئی شے نہیں ہے ملک سیاسی معاشی اور بدامنی کا شکار ہے جبکہ بے روزگاری سیاسی عدم استحکام اور دہشت گردی کے وجہ سے ملک مشکل اور نازک صورتحال سے دوچار ہے
حکومت نام کی کوئی شے نہیں ہے ملک سیاسی معاشی اور بدامنی کا شکار ہے،مولانا عبدالواسع

ٹیگز:
مولانا عبدالواسع
