کوئٹہ (ڈیلی گرین گوادر)سْپریم کورٹ بار ایسوسیشن کے سابق صدر امان اللہ کنرانی نے اپنے ایک تعزیتی پیغام میں کہا ہے کہ ماما قدیر بلوچ کی رحلت پر دلی دکھ و صدمہ ہوا ہے وہ پْرامن جدوجہد کے اندر برصغیر میں بلوچ قوم کے لئے ایک روشن چراغ کی مانند رہے ہیں جو مہاتمہ گاندھی کے بعد بڑی عزم و منزلت کی نشان بن گئے تھے جنھوں نے پاکستان کی تاریخ میں اس واحد شخصیت کا درجہ حاصل کرلیا جس نے اپنی جدوجہد کے اندر بلوچستان کی طویل جْغرافیاء حدود سے گْزر کر سندھ و پنجاب کے دریاء و صحراء علاقوں سے ہوتے ہوئے پاکستان کے شہر خموشاں اسلام آباد پر پہنچ کر مسنگ پرسنز کی بازیابی کیلئے اپنا احتجاجی رکارڈ کرایا ماما قدیر بلوچ مرحوم اپنے جواں سال صاحبزادے عبدالجلیل ریکی کی گْمشدگی و زندگی سے محرومی کا غم انگیخت کرکے جان جان آفرین کے سْپرد کرکے تاریخ میں امر ہو گئے اور عزم و استقلال و صبر و استقامت کی علامت بن گئے اللہ تعالیٰ انکی مغفرت و درجات بلند و پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے
ماما قدیر بلوچ کی رحلت پر دلی دکھ و صدمہ ہوا ہے وہ پْرامن جدوجہد کے اندر برصغیر میں بلوچ قوم کے لئے ایک روشن چراغ کی مانند رہے ہیں، امان اللہ کنرانی

ٹیگز:
ماما قدیر بلوچ
