کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما، سابق سینیٹر اور دانشور میر طاہر بزنجو نے ملک کی سیاسی تاریخ اور موجودہ سیاسی صورت حال پر گہری تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں بظاہر ناقابل تصور واقعات بھی ممکن ہیں۔ایک ویڈیو بیان میں انہوں نے کہا کہ 1973 میں وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے بلوچستان میں نیپ کی حکومت کو برطرف کیا، ان کے لیڈرز پر مقدمات چلائے اور پارٹی پر پابندی لگا دی۔ ایک دن ایسا آیا کہ خان عبد الولی خان اور میر غوث بخش بزنجو جیل سے اپنے رفقا کے ساتھ باہر آئے اور بھٹو صاحب کو پھانسی دی گئی۔انہوں نے کہا کہ وقت بدلتا رہا، حکومتیں بنتی اور ٹوٹتی رہیں، مگر کسی نے اپنی غلطیوں سے سبق نہیں سیکھا۔ جنرل ضیا الحق کی خواہش تھی کہ مسلح افواج کو آئینی رول ملے، جو پارلیمان نے فراہم کر دیا۔میر طاہر بزنجو نے مزید کہا کہ جاہل ہمارے شہروں کے استاد بن گئے اور پاکستانی سیاست میں سیاسی جماعتوں اور لیڈروں کی اقتدار کی شدید بھوک ہمیشہ ان کی جماعتوں کی بربادی کا سبب بنی ہے۔
اقتدار کی بھوک ہمیشہ سیاسی جماعتوں کے نقصان کا سبب بنی،میر طاہر بزنجو

ٹیگز:
طاہر بزنجو
