کوئٹہ (گرین گوادرنیوز) بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی قائم مقام صدر ملک عبدالولی کاکڑ کے زیرصدارت میں پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ میں کوئٹہ میں موجود مرکزی کابینہ اراکین سنٹرل کمیٹی ضلعی کابینہ اور سینئر دوستوں کا مشترکہ اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں بلوچستان اسمبلی میں متحدہ اپوزیشن کے اراکین اسمبلی کے ساتھ صوبائی حکومت کے نارواہ پالیسیوں انتقامی کاروائیوں اور جھوٹے مقدمات کے اندراج اپوزیشن حلقوں میں مداخلت غیر منتخب افراد کو فنڈز دینے کے خلاف متحدہ اپوزیشن کے جانب سے 25 جون کو کوئٹہ میں شٹرڈاؤن ہڑتال احتجاجی مظائرے اور دھرنے کو کامیاب بنانے کیلئے حکمت عملی اور مختلف کمیٹیاں تشکیل دی گئی اور پارٹی کارکنوں کو ذمہ داریاں سونپ دی گئی اجلاس میں بی این پی کے مرکزی ہیومن رائٹس سیکرٹری موسی بلوچ مرکزی کمیٹی کے اراکین غلام نبی مری ایم این اے رخشان ڈویڑن حاجی محمد ہاشم نوتیزئی میر جمال لانگو پروفیسر طائرہ احساس جتک ضلعی قائم مقام صدر ملک محی الدین لہڑی ڈپٹی جنرل سیکرٹری محمد لقمان کاکڑ جوائنٹ سیکرٹری میر عبدالغفور سرپرہ لیبر سیکرٹری ڈاکٹرعلی احمد قمبرانی بی این پی خاران کے صدر حاجی میر جمعہ خان کبدانی تحصیل دالبندین کے صدر یار محمد مینگل پارٹی کے سینئر رہنماء حاجی محمد ابراہیم پرکانی چئیرمین واحد بلوچ سرداررحمت اللہ قیصرانی کامریڈ یونس بلوچ سمیت پارٹی کے عہدیداروں نے شرکت کی اجلاس سے پارٹی کے مرکزی قائم صدر ملک عبدالولی کاکڑ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت تمام شعبہ عائی زندگی میں بہتری لانے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے اپنے ناکامیوں نااہلیوں اور کرپشن کو چھپانے کیلئے اپنے تمام تر توانائیوں اور کوششوں سے اپوزیشن کو زیر عتاب لانے میں مصروف عمل ہے گزشتہ تین سالوں سے گوڈ گورننس کے دعوے معض داعوں تک محدود ہیں حقیقت یہ ہے کہ آج بلوچستان کے غریب عوام گونا گو مسائل سے دوچار نان شبینہ کے محتاج ہے بڑتی ہوئی مہنگائی بے روزگاری لاقانونیت میرٹ کی پامالی اور زندگی کے تمام تر بنیادی سہولیات سے محروم ہے عوام بے یارومددگار جبکہ حکمران اپنے چہتوں کو اور منظور نظر افراد کو نوازنے کا کرپشن کا بازار گرم کر رکھا ہے حکمرانوں کو عوام کیلئے ریلیف دینے کیلئے کوئی واضع پروگرام اور پالیسی نہیں ہے انہیں صرف اور صرف اپنے مفادات اور اقتدار کو طول دینے اورمراعات کے حصول عزیز ہے گزشتہ دنوں بلوچستان اسمبلی میں حکومتی جماعت نے انتظامیہ اور اپنے گماشتوں کے ذریعے اپوزیشن کے معزز اراکین کو طاقت کے ذریعے بلڈوز کرکے زخمی کردیا اسکی تاریخ میں مثال نہیں ملتی بلوچستان کے باشعور عوام حکمرانوں کے اس غیر جمہوری روش کو کسی بھی صورت میں فراموش نہیں کرینگے دریں اثناء آج پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ میں متحدہ اپوزیشن کی جانب سے 25 جون کو شٹرڈاؤن ہڑتال اور احتجاجی جلسے اور دھرنے میں بھرپور شرکت کی سلسلے میں ایک مشاورتی اجلاس ہوا جس میں پارٹی کے مرکزی ہیومن رائٹس سیکرٹری موسی بلوچ مرکزی کمیٹی کے ممبر غلام نبی مری ضلعی قائم مقام صدر ملک محی الدین لہڑی جنرل سیکرٹری آغاخالد شاہ نائب صدر طائرشاہوانی ڈپٹی جنرل سیکرٹری لقمان کاکڑ لیر سیکرٹری ڈاکٹرعلی احمد قمبرانی پروفیشنل سیکرٹری چوہدری زبیر شوکت بلوچ ادریس پرکانی حمید بلوچ نیاز محمدحسنی ظریف بلوچ کامریڈ مرتضی مینگل غفار بادینی سبزعلی مری اور ملک شارین لہڑی نے شرکت کی اجلاس میں بی این پی کوئٹہ کے تمام یونٹوں کو ہدایت کی گئی کہ وہ اپنے علاقوں میں 25 جون کو شٹرڈاؤن کو کامیاب بنانے کیلئے متحدہ اپوزیشن جماعتوں سے تعلق رکنھے والے کارکنوں اور عہدیداروں کے ساتھ ملکر شٹرڈاؤن کو کامیاب بنائے اور 25 جون کو متحدہ اپوزیشن کے احتجاجی مظائرے اور دھرنے میں اپنے بھرپور شرکت کیلئے سہہ پہر 3 بجے کو میٹروکارپوریشن کے سبزہ زار میں اپنے پارٹی جھنڈوں کے ساتھ شرکت کو یقینی بنائے اور حکومت کے خلاف اپنا سیاسی جمہوری احتجاج ریکارڈ کروائے
اپوزیشن کے معزز اراکین کو طاقت کے ذریعے بلڈوز کرکے زخمی کردیا اسکی تاریخ میں مثال نہیں ملتی، ملک عبدالولی کاکڑ

ٹیگز:
ملک عبدالولی کاکڑ
