کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)بلوچستان میں اقبال لٹریری فیسٹیول میں طلبہ، اساتذہ اور ادبی شخصیات نے علم و فکر کی محفل سجائی۔ فیسٹیول میں طلبہ نے علامہ اقبال کی شاعری اور تقاریر پیش کیں اور حاضرین سے بھرپور داد وصول کی۔مقررین نے کہا کہ علامہ محمد اقبال صرف شاعر نہیں بلکہ ملت اسلامیہ کے احیا کے داعی، مساوات پر مبنی جمہوریت کے خواہاں اور ختم نبوت کے تصور کے محافظ تھے۔ انہوں نے زور دیا کہ نوجوان نسل کو اقبال کے فلسفے پر عمل کرتے ہوئے ملکی ترقی اور خود انحصاری کی راہ پر گامزن ہونا چاہیے۔تقریب میں گورنمنٹ اور پرائیویٹ اسکولز کے طلبہ میں اردو اور انگریزی تقریری مقابلے بھی منعقد ہوئے۔ اردو تقریری مقابلے میں فائزہ عاصف نے پہلی پوزیشن، سیدہ دعا نے دوسری اور محمد یونس نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔ انگریزی تقریری مقابلے میں بلقیس زین اللہ پہلی، ماہم عزیز دوسری اور غلام حسین تیسری پوزیشن پر رہے۔فیسٹیول کے دوران کتاب میلہ اور محفل مشاعرہ کا بھی انعقاد کیا گیا جس میں طلبہ، اساتذہ اور ادبی شخصیات نے بھرپور حصہ لیا۔ مقررین نے کہا کہ پاکستان کے قیام میں اقبال کے تخلیقی اور فکری جذبے کی جھلک موجود ہے اور ان کے خوابوں کی تعبیر کے لیے نوجوان نسل کو فکر اقبال پر عمل کرنا ہوگا۔
اقبال لٹریری فیسٹیول میں طلبہ نے علم و فکر کا جادو جگایا

ٹیگز:
اقبال
