کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)حکومتِ پاکستان کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق سال 2025 کے ابتدائی 9 ماہ کے دوران صوبہ بلوچستان سے 5 لاکھ 50 ہزار سے زائد افغان مہاجرین چمن بارڈر کے راستے افغانستان واپس جا چکے ہیں۔یہ انخلا وفاقی حکومت کی جانب سے غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کے خلاف ملک گیر اقدامات کا تسلسل ہے۔رپورٹ کے مطابق چمن بارڈر پر ضلعی انتظامیہ، ایف سی، لیویز، نادرا اور امیگریشن حکام کی نگرانی میں افغان مہاجرین کی واپسی کا عمل مرحلہ وار جاری ہے۔واپس جانے والوں میں وہ افغان شہری بھی شامل ہیں جن کے پاس قانونی دستاویزات نہیں تھیں، جبکہ متعدد افراد نے رضاکارانہ طور پر وطن واپسی کا فیصلہ کیا۔ضلعی انتظامیہ کے مطابق، واپس بھیجے گئے مہاجرین میں خواتین، بچے، بزرگ اور نوجوان شامل ہیں جنہیں چمن میں مختصر قیام، رجسٹریشن اور امدادی سامان کی فراہمی کے بعد بابِ دوستی کے ذریعے افغانستان منتقل کیا گیا۔انخلا کے دوران اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (UNHCR) سمیت مختلف فلاحی تنظیموں نے مہاجرین کو بنیادی سہولیات فراہم کیں۔حکام کے مطابق روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں افراد افغانستان واپس جا رہے ہیں اور یہ عمل اس وقت تک جاری رہے گا جب تک تمام غیر قانونی مقیم افراد کی واپسی مکمل نہیں ہو جاتی۔حکومتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغان مہاجرین کی واپسی سے نہ صرف ملکی سلامتی اور معاشی بوجھ میں کمی آئے گی بلکہ پاک۔افغان تعلقات میں بہتری کا بھی امکان ہے۔رپورٹ میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے کہ واپسی کا تمام عمل شفافیت اور انسانی ہمدردی کے اصولوں کے تحت مکمل کیا جائے گا۔
بلوچستان سے 5.5 لاکھ افغان مہاجرین کی وطن واپسی، حکومتی رپورٹ جاری

ٹیگز:
بلوچستان
