کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)پشتونخوا اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے زونل سیکرٹری وارث افغان، سینئر معاون ایمل اروان اور دیگر ایگزیکٹو اراکین نے اپنے مشترکہ بیان میں جامعہ پنجاب میں پشتون طلبہ کے ساتھ پیش آنے والے افسوسناک اور ناانصافی پر مبنی واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ واقعہ پرامن تعلیمی ماحول اور طلبہ کے بنیادی انسانی و جمہوری حقوق پر براہِ راست حملہ ہے۔انہوں نے بتایا کہ پشتون طلبہ کو نگرانِ طلبہ امور کی جانب سے مختصر ثقافتی پروگرام کی اجازت دی گئی تھی، تاہم مقررہ وقت پر جامعہ انتظامیہ نے اچانک مرکزی دروازے بند کر کے مقررین کو اندر داخل ہونے سے روک دیا۔ دروازے پر جمع پرامن طلبہ کو منتشر کرنے کے لیے محافظوں نے لاٹھی چارج کیا، مارا پیٹا اور گھسیٹا گیا۔ بعد ازاں پولیس کو طلب کیا گیا، جس نے مزید تشدد کر کے کم از کم پندرہ طلبہ کو غیر قانونی طور پر گرفتار کر لیا۔بیان میں کہا گیا کہ اس دوران پشتون طلبہ کو ان کی نسلی شناخت کی بنیاد پر گالیاں دی گئیں اور تضحیک کا نشانہ بنایا گیا، جو کھلے عام تعصب اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ پشتونخوا اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن نے اس جبر اور ناانصافی کے خلاف پرامن سیاسی جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا اور مطالبہ کیا کہ جامعہ پنجاب انتظامیہ واقعے کی شفاف تحقیقات کر کے ملوث افراد کو سزا دے۔
جامعہ پنجاب میں پشتون طلبہ پر تشدد اور گرفتاریوں کی شدید مذمت

ٹیگز:
جامعہ پنجاب
