کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن جامعہ بلوچستان کی کال پر آج اساتذہ کرام نے اپنے بازوں پر کالی پٹیاں باندھ کر یونیورسٹی آف بلوچستان میں اپنے جائز مطالبات کے لئے یوم سیاہ بنایا گیا۔اس موقع پر اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن کے صدر پروفیسر ڈاکٹر کلیم اللہ بڑیچ، جنرل سیکرٹری فریدخان اچکزئی، نائب صدر ڈاکٹر شبیر احمد شاہوانی، پریس سیکرٹری رحمت اللہ اچکزئی، فنانس سیکرٹری ڈاکٹر باز محمد کاکڑ نے کہا کہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے اساتذہ کرام اور افسران کو منظور شدہ اپ گریڈیشن اور الاؤنسز سے محروم رکھا ہے،اور اسسٹنٹ، ایسوسی ایٹ اور پروفیسرز کی درجنوں اسامیاں خالی ہونے کے باجود مشتہر نہیں کررہے ہیں حالانکہ کئی اساتذہ کرام ایم فل اور پی ایچ ڈی کرنے کے باوجود بیس بیس سال سے پروموشن سے محروم چلے آ رہے ہیں۔مزید یہ کہ کالونی میں رہائش پذیر اساتذہ اور ملازمین سے غیرقانونی کٹوتیاں کی جارہی ہیں، جبکہ دو سو سے زائد ریٹائرڈ ملازمین کو آج تک پینشنز کنٹریبیوشن نہیں دیاگیا اور بقایاجات و لیو انکیشمنٹ کی ادائیگی بھی نہیں کی گئی جو کہ ایک اساتذہ دشمن اقدام ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر اپ گریڈیشن اور آسامیوں کو مشتہر کرنے کے احکامات جاری کیے جائیں، غیرقانونی کٹوتیاں ختم کی جائیں اور پینشنز کنٹریبیوشن اور بقایاجات کی ادائیگی کی جائے۔انہوں نے واضح کیا کہ ڈین فیکلٹی آف سوشل سائینسز کی تعیناتی میں قواعد کی خلاف ورزی کی گئی جو دراصل متعلقہ فیکلٹی میں اہل اساتذہ کے حق تلفی ہے انہوں نے اعلان کیا کہ کہ ہفتہ سیاہ منانے کے سلسلے میں یکم اکتوبر بروز بدھ کو بھی یوم سیاہ منایا جائے گا اور یونیورسٹی آف بلوچستان کے سائنس بلاک میں اساتذہ کرام میں وائٹ پیپر تقسیم کیا جائے گا اور اگلے ہفتے سے جامعہ کے مین گیٹ اور پریس کلب کوئٹہ کے سامنے احتجاجی کیمپ لگائے جائیں گے جس میں سینکڑوں موجودہ اور ریٹائرڈ اساتذہ کرام اور ملازمین بھرپور انداز میں شرکت کریں گے
وائس چانسلر اپ گریڈیشن اور خالی اسامیوں کو مشتہر کرنے کے احکامات جاری کریں،غیر قانونی کٹوتیوں کے احکامت منسوخ کیے جائیں، ڈاکٹر کلیم اللہ بڑیچ

ٹیگز:
ڈاکٹر کلیم اللہ
