کوئٹہ (ڈیلی گرین گوادر)بلوچستان بھر میں افغان مہاجرین کے انخلا کا عمل تیزی سے جاری ہے، جہاں ضلعی انتظامیہ، پولیس، لیویز، ایف سی اور دیگر سیکیورٹی اداروں نے مربوط کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ ان کارروائیوں کا مقصد ان تمام افغان شہریوں کو واپس ان کے وطن بھیجنا ہے جو بغیر قانونی دستاویزات یا رجسٹریشن کے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں مقیم ہیں حکام کے مطابق، انخلا کا یہ تیسرا مرحلہ ہے جس میں اب تک ایک لاکھ پچاس ہزار سے زائد افغان مہاجرین کو وطن واپس بھیجا جا چکا ہے ان میں سے 20 ہزار افراد رضاکارانہ طور پر چمن بارڈر کے ذریعے افغانستان واپس لوٹ چکے ہیں، جبکہ باقی مہاجرین کو حکومتی سطح پر حراست میں لے کر ڈی پورٹ کیا گیا ہے زرائع کے مطابق، آپریشن میں سب سے زیادہ شدت کوئٹہ، پشین، چمن، چاغی، دکی، لورالائی اور مستونگ سمیت دیگر اضلاع میں دیکھی گئی ہے۔ سیکیورٹی فورسز روزانہ کی بنیاد پر چھاپے مار کر غیر رجسٹرڈ افغان باشندوں کو گرفتار کر رہی ہیں۔ ان افراد کو ابتدائی حراست میں لے کر رجسٹریشن اور دستاویزات کی جانچ پڑتال کے بعد چمن، گل کچ، بادینی اور تفتان کے سرحدی پوائنٹس سے افغانستان واپس بھیجا جا رہا ہے کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں افغانوں کے زیرِ انتظام اسکولز اور کلینک بند کیے جا رہے ہیں حکومت بلوچستان نے ایسے 33 سے زائد تعلیمی ادارے اور صحت کے مراکز کی نشاندہی کی ہے جو افغان باشندے چلا رہے تھے۔ ان اداروں کو انخلا نوٹس جاری کیے جا چکے ہیں اور انہیں جلد بند کیا جا رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ ادارے *قانونی اجازت کے بغیر قائم کیے گئے تھے اور ان میں رجسٹرڈ افغانوں کے ساتھ ساتھ غیر رجسٹرڈ افراد بھی کام کر رہے تھے پولیس، ایف سی اور لیویز اہلکار نہ صرف سڑکوں پر بلکہ غیر قانونی مہاجرین کی پناہ گاہوں، کرایہ کے گھروں اور دکانوں پر بھی چھاپے مار رہے ہیں۔ ہر ضلع کی ضلعی انتظامیہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اس عمل کو فوری، موثر اور مکمل شفافیت کے ساتھ انجام دے حکام نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ اگر ان کے علم میں کوئی غیر قانونی افغان باشندہ ہو تو قریبی تھانے یا محکمہ داخلہ بلوچستان کو اطلاع دیں تاکہ کارروائی کی جا سکے بلوچستان حکومت کا کہنا ہے کہ یہ انخلا قومی سلامتی، معاشی استحکام اور مقامی وسائل کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہے، اور یہ عمل بین الاقوامی قوانین اور انسانی ہمدردی کے اصولوں کے تحت انجام دیا جا رہا ہے۔
غیر رجسٹرڈ افغانوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی، حکومت بلوچستان

ٹیگز:
حکومت بلوچستان
