تحریر، شیخ عبدالرزاق
6 ستمبر 2016 کا دن ڈیرہ بگٹی کے عوام کے لیے ہمیشہ غم و الم کی علامت رہے گا۔ یہ وہ دن تھا جب ڈیرہ بگٹی کے عظیم محسن، مردِ آہن، انسانی ہمدرد اور عوامی رہنما میر غلام قادر بگٹی ہم سے بچھڑ گئے۔ آج ان کی نویں برسی ضلع بھر میں عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جا رہی ہے۔1949 میں ڈیرہ بگٹی کی تحصیل پھیلاوغ کے سنگلاخ اور پسماندہ علاقے بیکڑ میں چیف آف بگٹی میر جان محمد مسوری بگٹی کے گھر جنم لینے والا یہ بچہ حالات کی سختیوں اور زمانے کی رکاوٹوں کے باوجود تعلیم کی روشنی کی تلاش میں نکلا۔ جدید ذرائع آمدورفت کی عدم موجودگی کے باوجود کئی کلو میٹر پیدل سفر کرکے پرائمری سے مڈل تک پھیلاوغ کے مڈل اسکول میں تعلیم حاصل کرتے رہے اس کے بعد ڈیرہ بگٹی ، بارکھان اور پھر سائنس کالج کوئٹہ میں ثانوی تعلیم جبکہ یونیورسٹی آف بلوچستان سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی ، ملازمت کے کئی مواقعوں کو انکار کرکے عوامی خدمت کو ترجیح دی
محض 23 برس کی عمر میں میر غلام قادر بگٹی نے غلامانہ اور فرسودہ سرداری نظام کے خلاف علمِ بغاوت بلند کیا اور ڈیرہ بگٹی میں جمہوریت کی بنیاد رکھی قید و بند کی صعوبتیں اور رفقاء کی بے وفائیاں ان کے راستے میں حائل ہوئیں مگر وہ کبھی ظلم اور جبر کے آگے نہ جھکے اور ایک لمحہ بھی اپنے نظریہ سے روگردانی نہ کی ، اپنی سیاسی زندگی کے آغاز سن 1980 کے عشرے سے لے کر آخری سانس تک، انہوں نے ڈیرہ بگٹی کے مظلوم عوام کے حقوق اور آزادی کے لیے اپنی زندگی وقف کر دی۔ شاعر کے الفاظ ان کی حیات پر پوری طرح صادق آتے ہیں
“جو ہم پہ گزری ہم ہی جانتے ہیں، دنیا تو لطف لے گی ہمارے واقعات سے۔”
وہ محض ایک سیاست دان نہیں بلکہ محسنِ انسانیت تھے انہوں نے اپنی بیٹھک کو علم کا مرکز بنایا، بگٹی قبیلے کے سینکڑوں نوجوانوں کو تعلیم کے مواقع فراہم کیے، انہیں رہائش اور خوراک دی تاکہ وہ علم حاصل کر سکیں۔ ان کی کاوشوں سے علم کی روشنی دیکھتے ہی دیکھتے پورے علاقے میں پھیل گئی۔ انہوں نے ہزاروں خاندانوں کو روزگار دیا اور غریب عوام کو یہ احساس دلایا کہ وہ غلام نہیں بلکہ خوددار اور محب وطن پاکستانی ہیں۔سن 2006 میں جب ڈیرہ بگٹی میں ریاست پاکستان کے خلاف مسلح تصادم شروع کیا گیا تو ڈیرہ بگٹی بدامنی اور خون ریزی کا شکار ہوگیا۔ معصوم اور بے گناہ لوگ قربانی کا ایندھن بنے، تعلیمی و طبی ادارے تباہ کر دیے گئے، اور غریب عوام بھوک و افلاس کے مارے سندھ و پنجاب کی طرف ہجرت پر مجبور ہوئے۔ اس وقت میر غلام قادر بگٹی نے 2010 میں سوئی کو اپنا ہیڈ کوارٹر بنایا اور جمہوری جدوجہد کے ساتھ ساتھ امن قائم کرنے کے لیے عسکریت پسندوں کے خلاف محاذ بھی سنبھالا۔ سینکڑوں سادہ لوح لوگوں کو ہتھیار ڈالنے پر آمادہ کیا اور ان کے ہاتھوں میں پاکستان کا پرچم تھما دیا اور ہزاروں لوگ واپس اپنے آبائی علاقوں میں آباد ہوئے
سوئی پاکستان ہاؤس میں 2010 سے 2016 تک مقیم رہ کر انہوں نے ڈیرہ بگٹی میں امن و امان کی بحالی کے لیے دن رات جدوجہد کی۔ ان کی کوششوں سے بگٹی اور مزاری قبائل کے درمیان پچیس سالہ خونی جنگ کا خاتمہ ہوا، جو سینکڑوں جانیں نگل چکی تھی اس کے علاوہ سینکڑوں قبائلی جھگڑے خوش اسلوبی سے حل کئے ۔ ان کی سیاسی قربانیاں اور اصولوں سے جڑے رہنے کا حوصلہ انہیں تاریخ میں امر کر گیا
آج ان کے فرزند سرفراز احمد بگٹی (وزیر اعلیٰ بلوچستان )اپنے والد کے خواب کو عملی جامہ پہنا رہے ہیں اسوقت ڈیرہ بگٹی کا نقشہ بدل رہا ہے ضلع میں میگا پراجیکٹس پر کام جاری ہے، سڑکوں کا جال بچھایا گیا ہے، سوئی اور بیکڑ میں قومی معیار کے اسپتال قائم ہوئے ہیں جہاں ہزاروں مریض مفت علاج پا رہے ہیں۔ صرف دو برس میں سینکڑوں نوجوانوں کو روزگار دیا گیا ہے
تعلیم کے شعبے میں بھی میر غلام قادر بگٹی کا خواب نئی بلندیوں کو چھو رہا ہے۔ آج ڈیرہ بگٹی کے دو ہزار سے زیادہ بچے ملک کے بڑے اداروں میں میرٹ پر اسکالرشپ لے کر تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ صوبے میں پہلی بار یوتھ اسکلز ڈویلپمنٹ پروگرام شروع کیا گیا ہے جس کے ذریعے نوجوانوں کو ہنر مند بنا کر بیرون ملک روزگار کے مواقع دیے جا رہے ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ میر سرفراز بگٹی نے بلوچستان کے طلباء کے لیے دنیا کی دو سو سے زائد ممتاز جامعات، بشمول آکسفورڈ اور ہارورڈ، کے دروازے کھول دیے ہیں۔ یوں بیکڑ سے اٹھنے والا تعلیمی چراغ آج عالمی جامعات تک جا پہنچا ہے۔
صحت کے میدان میں بھی نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ اب تک چھ ہزار سے زائد مریض آغا خان اسپتال اسلام آباد میں مفت علاج کروا چکے ہیں۔ یہ سب اس بات کا ثبوت ہے کہ میر غ…
ایک مرد آہن ، میر غلام قادر بگٹی مرحوم کی نویں برسی

ٹیگز:
ایک مرد آہن
