کوئٹہ:صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے علاقے علمدار روڈ میں آوارہ اور پاگل کتے کے حملے سے خوفناک صورتحال پیدا ہوگئی۔ اچانک حملے کے نتیجے میں کم از کم 14 افراد شدید زخمی ہو گئے جنہیں مقامی افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا۔ عینی شاہدین کے مطابق پاگل کتے نے گلیوں میں دوڑتے ہوئے متعدد راہگیروں کو کاٹا، جس سے پورے علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔زخمیوں کو سول اسپتال کوئٹہ پہنچایا گیا، مگر وہاں صورتحال مزید ابتر نکلی۔ اسپتال میں ریبیز (کتا کاٹنے کے علاج کی ویکسین) موجود نہیں تھی، جس کے باعث ہسپتال انتظامیہ نے مریضوں کو باہر میڈیکل اسٹورز سے مہنگے داموں انجکشن خریدنے کی ہدایت کر دی۔ سول اسپتال کے باہر شہریوں کو ریبیز کے 5 سے 6 انجکشن لینے پر مجبور کیا جا رہا ہے، جن کی قیمت عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہے۔علاقہ مکینوں اور عوامی حلقوں نے کہا ہے کہ کوئٹہ میں آوارہ کتوں کی تعداد خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے اور روزانہ شہری ان کے حملوں کا نشانہ بن رہے ہیں۔ گزشتہ ہفتے ہزارہ ٹان میں بھی کتے کے کاٹنے کے کئی واقعات پیش آئے تھے مگر میٹروپولیٹن کارپوریشن کی جانب سے تاحال کوئی مثر “کتا مار مہم” شروع نہیں کی گئی۔شہریوں نے ضلعی حکومت، میٹروپولیٹن کارپوریشن اور محکمہ صحت سے فوری مطالبہ کیا ہے کہ آوارہ کتوں کی تلفی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں اور سول اسپتال سمیت تمام سرکاری اسپتالوں میں ریبیز ویکسین کی دستیابی یقینی بنائی جائے۔ عوام نے خبردار کیا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ اٹھائے گئے تو مزید انسانی جانیں ضائع ہو سکتی ہیں اور شہری احتجاج پر مجبور ہو جائیں گے۔
کوئٹہ،پاگل کتے کے کاٹنے سے14افراد شدید زخمی

