کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)بلوچستان بھر میں سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس آج دوسرے روز بھی مکمل طور پر بند رہی، جس کے باعث عوام، طلبہ، کاروباری طبقے اور میڈیا کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ذرائع کے مطابق صوبے کے تمام اضلاع جن میں کوئٹہ، تربت، گوادر، خضدار، نوشکی، پنجگور، قلات، مستونگ، لسبیلہ، چاغی، آواران، کیچ، واشک، خاران، سوراب، سبی، دکی، ژوب، شیرانی، موسی خیل، کوہلو، لورالائی، پشین، قلعہ سیف اللہ، قلعہ عبداللہ، بارکھان، زیارت، بولان، جعفرآباد، نصیرآباد اور جھل مگسی شامل ہیں، میں تمام موبائل نیٹ ورکس اور انٹرنیٹ خدمات مکمل طور پر بند ہیں۔مواصلاتی نظام کی بندش سے نہ صرف عوامی رابطہ منقطع ہو گیا ہے بلکہ ایمرجنسی سروسز، آن لائن تعلیم، صحافتی سرگرمیاں اور کاروباری لین دین بھی بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اگر سیکیورٹی خدشات موجود ہیں تو متبادل حل نکالا جائے، بصورت دیگر سروسز کی بندش سے معمولات زندگی مفلوج ہو کر رہ گئے ہیں حکومت بلوچستان کے ایک سینیئر سرکاری افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ محکمہ داخلہ بلوچستان کی درخواست پر بلوچستان بھر میں انٹرنیٹ سروسز کو بند کردیا گیا ہے۔ ان کے بقول یہ فیصلہ سکیورٹی خدشات کے پیش نظر کیا گیا ہے اور یہ بندش 31 اگست تک برقرار رہ سکتی ہے۔
بلوچستان بھر میں مسلسل دوسرے روز ڈیجیٹل بلیک آٹ، موبائل و انٹرنیٹ سروس مکمل بند

ٹیگز:
بلوچستان
