اسلام آباد (ڈیلی گرین گواد ر) ترجمان دفتر خارجہ، شفقت علی خان نے کہا ہے کہ پاکستان، نام نہاد ‘آپریشن سندور’ کے حوالے سے بھارتی رہنماؤں کی جانب سے لوک سبھا میں کیے گئے بے بنیاد دعوؤں اور اشتعال انگیز بیانات کو دوٹوک الفاظ میں مسترد کرتا ہے۔ یہ بیانات حقائق کو مسخ کرنے، جارحیت کو جواز دینے، اور اندرونی سیاسی مقاصد کے لیے تنازع کو بڑھاوا دینے کے خطرناک رجحان کی عکاسی کرتے ہیں۔ترجمان نے کہا کہ دنیا جانتی ہے بھارت نے پَہلگام حملے کی نہ کوئی قابلِ تصدیق شہادت پیش کی، نہ معتبر تحقیقات کیں، اور پاکستان پر بلاجواز حملہ کیا۔ 6 اور 7 مئی 2025 کی درمیانی شب بھارت نے جس مبینہ دہشتگردی کے ڈھانچے کو نشانہ بنایا، اس کے نتیجے میں بے گناہ مرد، خواتین اور بچے شہید ہوئے۔ بھارت اپنے کسی بھی اسٹریٹجک مقصد میں کامیاب نہ ہو سکا، جبکہ پاکستان نے بھارتی لڑاکا طیاروں اور فوجی اہداف کو مؤثر طور پر ناکارہ بنایا جو ایک ناقابل تردید حقیقت ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ بھارتی رہنماؤں کو اپنی عوام کو گمراہ کرنے کے بجائے، اپنی مسلح افواج کو ہونے والے نقصانات تسلیم کرنے چاہئیں، اور جنگ بندی کے قیام میں تیسرے فریقوں کے فعال کردار کو تسلیم کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ وزیرِاعظم پاکستان کی جانب سے پَہلگام حملے کی شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کی پیشکش کو بھارت نے مسترد کرتے ہوئے اشتعال انگیزی کی راہ اختیار کی، اور خود ہی منصف، جج اور جلاد بن بیٹھا۔ ایسے میں، نام نہاد ’آپریشن مہادیو‘ سے متعلق بھارتی دعوؤں کی پاکستان کے لیے کوئی اہمیت نہیں۔ بھارتی وزیر داخلہ کی پیش کردہ کہانی جھوٹ، مبالغے اور تضادات سے بھرپور ہے، جس سے اس کی ساکھ پر سنگین سوالات کھڑے ہوتے ہیں۔ کیا یہ محض اتفاق ہے کہ پَہلگام حملے کے مبینہ کردار لوک سبھا کی بحث کے آغاز پر ہی مارے گئے؟ترجمان نے بھارت کی جانب سے دوطرفہ تعلقات میں نئے نارمل کی اصطلاح کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے لیے تعلقات کا ’نارمل‘ صرف اور صرف خودمختاری، علاقائی سالمیت کے احترام، اور اقوام متحدہ کے منشور کی پاسداری میں مضمر ہے۔
بھارتی پارلیمنٹ میں نام نہاد ’آپریشن سندور‘ پر بحث: پاکستان نے جھوٹے اور اشتعال انگیز بیانات مسترد کردیے

ٹیگز:
بھارتی
