بھاگ:بلوچستان کے تاریخی شہر بھاگ میں مختصر بارش نے انتظامی اداروں کی کارکردگی کا پول کھول دیا۔ ناقص نکاسی آب کے باعث سیوریج کا پانی گلیوں میں جمع ہوگیا جس سے پیدا ہونے والے جوہڑ میں مزدور کا چار سالہ اکلوتا بیٹا ڈوب کر جاں بحق ہوگیا۔تفصیلات کے مطابق بھاگ شہر میں جاری نکاسی آب کے منصوبے کی تاخیر اور ناقص منصوبہ بندی نے عوام کے لیے وبال جان بنادیا ہے۔ مذکورہ نالہ کئی ماہ سے زیر تعمیر ہے، جبکہ ٹھیکیدار منصوبہ ادھورا چھوڑ کر غائب ہو چکا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ منصوبے میں چیک اینڈ بیلنس کا فقدان، متعلقہ محکموں اور بلدیاتی نمائندوں کی مجرمانہ غفلت و لاپرواہی انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔شہر کے اہم مقامات اور مذہبی درگاہیں پیر صابر شاہ، حیدر شاہ شہنشاہ اور صوفن شاہ بھی گندے پانی کی آماجگاہ بن چکے ہیں۔شہری و سماجی حلقوں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری نوٹس نہ لیا گیا تو آئندہ بارشوں میں یہ منصوبہ بڑے سانحے کا باعث بن سکتا ہے۔ انہوں نے سیکریٹری بلدیات، سیکریٹری لوکل گورنمنٹ، کمشنر نصیرآباد، ڈپٹی کمشنر کچھی اور چیف آفیسر بلدیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری نوٹس لے کر شہری مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں۔
بھاگ،برساتی پانی کی جوہڑ میں ڈوب کر بچہ جاں بحق

