کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں ٹریفک قوانین کی سنگین خلاف ورزیاں معمول بن چکی ہیں، جس کے باعث حادثات کے خدشات میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں کم عمر نوجوان بڑی تعداد میں بغیر لائسنس گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں چلا رہے ہیں، جو ٹریفک قوانین سے ناواقف ہوتے ہیں اور بغیر کسی تربیت کے سڑکوں پر خطرناک انداز میں ڈرائیونگ کرتے ہیں۔خبر رساں ایجنسی یو این اے کے مطابق، کوئٹہ کی سڑکوں پر ایسی خواتین بھی دیکھی گئی ہیں جو بغیر ڈرائیونگ لائسنس گاڑیاں چلا رہی ہیں، جن میں سے کئی کو مکمل تربیت حاصل نہیں ہوتی۔ بیشتر خواتین ناقابلِ اعتبار، خراب حالت یا کابلی گاڑیاں استعمال کر رہی ہیں، جو نہ صرف ان کے لیے بلکہ دوسرے شہریوں کے لیے بھی خطرناک بن چکی ہیں۔شہریوں کا کہنا ہے کہ ٹریفک پولیس کی موجودگی کے باوجود نہ تو کم عمر ڈرائیوروں کے خلاف کوئی کارروائی ہوتی ہے، نہ ہی بغیر لائسنس خواتین کو چیک کیا جاتا ہے۔ ٹریفک اہلکار اکثر خواتین کو خاتون ہونے کی بنیاد پر روکتے تک نہیں۔عوام نے وزیراعلی بلوچستان، آئی جی بلوچستان معظم جاہ انصاری اور ایس ایس پی ٹریفک سے مطالبہ کیا ہے کہ کم عمر اور غیر تربیت یافتہ ڈرائیوروں کے خلاف فوری اور سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔ بغیر لائسنس گاڑی چلانے پر بھاری جرمانے عائد کیے جائیں اور خواتین کو ڈرائیونگ سے قبل مکمل تربیت و قانونی لائسنس حاصل کرنے کا پابند بنایا جائے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو یہ لاپرواہی بڑے جان لیوا حادثات کا سبب بن سکتی ہے۔
کوئٹہ میں کم عمر اور غیر لائسنس یافتہ ڈرائیوروں کی بھرمار، حادثات کے خدشات بڑھ گئے

