کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں گداگروں اور بھکاریوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہو گیا ہے، جس کے باعث شہری شدید اذیت کا شکار ہیں۔ شہر کے مختلف علاقوں، بازاروں، گلیوں، ٹریفک سگنلز اور مسجدوں کے باہر بھکاریوں کے گروہ نظر آتے ہیں، جن میں مرد، خواتین اور بچے شامل ہوتے ہیں۔خبر رساں ایجنسی یو این اے کے مطابق، ان میں سے متعدد افراد نہ صرف پیشہ ور گداگر ہیں بلکہ چوری جیسی وارداتوں میں بھی ملوث پائے گئے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ کئی بھکاری مختلف اشیا مثلا ٹشو پیپر یا سستے کھلونے بیچنے کے بہانے قریب آتے ہیں اور پھر زبردستی بھیک مانگنے یا چوری کی کوشش کرتے ہیں۔یہ گداگر عموما سندھ اور پنجاب کے گرم علاقوں سے موسم کی شدت سے بچنے کے لیے کوئٹہ آتے ہیں اور یہاں ڈیرے ڈال لیتے ہیں۔ ان کی موجودگی سے نہ صرف عوامی مقامات پر رش اور بے چینی پیدا ہو رہی ہے بلکہ شہر میں جرائم کا گراف بھی مسلسل بلند ہو رہا ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ کوئٹہ پولیس اور محکمہ سوشل ویلفیئر بلوچستان ان گداگروں کے خلاف مثر اقدامات کرنے میں ناکام دکھائی دے رہے ہیں۔ پولیس انہیں صرف وقتی طور پر ہٹاتی ہے جبکہ سوشل ویلفیئر کی جانب سے نہ کوئی شناختی مہم چلائی گئی ہے اور نہ ہی ان کے لیے کسی روزگار یا بحالی کے اقدامات کیے گئے ہیں۔عوام نے وزیراعلی بلوچستان، آئی جی پولیس اور پارلیمانی سیکرٹری سوشل ویلفیئر حاجی ولی نورزئی سے مطالبہ کیا ہے کہ دیگر صوبوں کی طرز پر ان غیر مقامی گداگروں کے خلاف مثر کارروائی کی جائے، انہیں واپس منتقل کیا جائے یا کسی ہنر مندی کی طرف راغب کیا جائے تاکہ شہر کا امن و امان بحال ہو اور عوام کو تحفظ مل سکے۔
کوئٹہ میں بھکاریوں کی یلغار، چوری کی وارداتوں میں تشویشناک اضافہ

