کوئٹہ(یو این اے )بلوچستان کا دارالحکومت کوئٹہ ان دنوں پانی کی شدید قلت کے بحران سے دوچار ہے، جہاں زیر زمین پانی کی سطح خطرناک حد تک نیچے گر چکی ہے۔ ماہرین کے مطابق کوئٹہ میں زیر زمین پانی کی سطح 1200 سے 1500 فٹ تک جا پہنچی ہے، جو نہ صرف تشویشناک بلکہ مستقبل میں انسانی زندگی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ماہرینِ ارضیات اور ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آنے والے چند سالوں میں کوئٹہ کے شہریوں کو پانی کی تلاش میں اپنے آبائی علاقوں کو چھوڑ کر دیگر مقامات کی طرف نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑے گا۔ اس وقت کوئٹہ کے کئی علاقے روزانہ کی بنیاد پر پانی کی قلت کا سامنا کر رہے ہیں، جہاں بعض جگہوں پر ہفتوں تک پانی دستیاب نہیں ہوتا۔میڈیارپورٹ کے مطابق کوئٹہ میں آبادی میں بے ہنگم اضافہ، پانی کے غیر قانونی اور بے دریغ استعمال، بارشوں کی کمی، اور گلوبل وارمنگ جیسے عوامل نے زیر زمین پانی کے ذخائر کو تیزی سے ختم کر دیا ہے۔ ڈرلنگ کی مد میں روزانہ درجنوں نئی بورنگز کی جا رہی ہیں جن کا کوئی مثر حکومتی کنٹرول موجود نہیں۔رپورٹ کے مطابق حکومتی سطح پر واٹر سپلائی اسکیموں اور واٹر مینجمنٹ سسٹم میں بھی شدید خامیاں موجود ہیں، جبکہ متعدد پرانی واٹر اسکیمیں یا تو ناکارہ ہو چکی ہیں یا کرپشن کا شکار ہو کر بند ہو چکی ہیں۔ واٹر اینڈ سینیٹیشن اتھارٹی (واسا) کے پاس نہ تو مطلوبہ وسائل ہیں اور نہ ہی جدید ٹیکنالوجی، جس کے باعث وہ شہر کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے سے قاصر نظر آتی ہے۔
کوئٹہ میں زیرزمین پانی کی سطح میں خطرناک حد تک کمی

