کوئٹہ(یو این اے )فیڈریشن آف آل پاکستان یونیورسٹیز اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشنز :فپواسا: کی جانب سے وفاقی بجٹ 2025-26 میں اعلی تعلیم کے شعبے کو مکمل طور پر نظر انداز کیے جانے کے خلاف ملک گیر احتجاجی تحریک کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ اس حوالے سے اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن جامعہ بلوچستان کے صدر پروفیسر ڈاکٹر کلیم اللہ بڑیچ، جنرل سیکرٹری فرید خان اچکزئی، نائب صدر ڈاکٹر شبیر احمد شاہوانی، جوائنٹ سیکرٹری میڈم زہرا ملغانی، فنانس سیکرٹری پروفیسر ڈاکٹر صاحبزادہ باز محمد کاکڑ، پریس سیکرٹری رحمت اللہ اچکزئی، اور ایگزیکٹو ممبران ارباب رضا کاسی، میڈم فرحانہ عمر مگسی، ڈاکٹر محب اللہ کاکڑ، ڈاکٹر گل محمد بلوچ اور پروفیسر مسعود مندوخیل نے بھرپور شرکت کا اعلان کیا ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ احتجاجی تحریک کا آغاز 16 جون 2025 کو ملک بھر کی تمام یونیورسٹیوں میں یومِ سیاہ منانے سے ہوگا۔ 17 جون کو اسلام آباد پریس کلب سمیت تمام صوبائی دارالحکومتوں اور بڑے شہروں کے پریس کلبوں کے سامنے پرامن مظاہرے کیے جائیں گے، جبکہ بلوچستان گرینڈ الائنس کے فیصلے کے مطابق صوبائی بجٹ کے روز بلوچستان اسمبلی کے سامنے احتجاج کیا جائے گا۔ 19 جون کو پارلیمنٹ ہاس اسلام آباد کے سامنے دھرنا ہوگا جو مطالبات کی منظوری تک جاری رہے گا۔اساتذہ رہنماں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر ملک بھر کی جامعات کے لیے کم از کم 200 ارب روپے کا بجٹ مختص کیا جائے، جبکہ بلوچستان حکومت صوبائی جامعات کے لیے کم از کم 15 ارب روپے مختص کرے۔ ساتھ ہی یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ صوبے کی جامعات کے منظور شدہ الانسز کی منسوخی کا نوٹیفکیشن واپس لیا جائے بصورت دیگر تمام جامعات میں قلم چھوڑ ہڑتال اور کلاسوں کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے گا۔اساتذہ نے خبردار کیا کہ تعلیم دشمن پالیسیوں کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور اساتذہ برادری اپنے حقوق کے لیے ہر حد تک جائے گی۔
وفاقی بجٹ میں اعلی تعلیم کو نظر انداز کرنے پر فپواسا کا ملک گیر احتجاجی تحریک کا اعلان

