اسرائیلی وزیرِاعظم بینجمن نیتن یاہو نے ایران کے خلاف جاری فضائی کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل نے ’آپریشن رائزنگ لائن‘ کا آغاز کر دیا ہے، جس کا مقصد ایران سے درپیش خطرے کا خاتمہ ہے۔نیتن یاہو نے کہا کہ چند لمحے قبل اسرائیل نے آپریشن رائزنگ لائن کا آغاز کیا، جو ایک مخصوص فوجی کارروائی ہے۔ اس کا مقصد ایران کے اس خطرے کو پیچھے دھکیلنا ہے جو اسرائیل کے وجود کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔ یہ آپریشن اس وقت تک جاری رہے گا جب تک یہ پھیلاؤ مکمل طور پر ختم نہیں ہو جاتا۔اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا کہ اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار تو نہیں ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ مہینوں میں ایران نے ایسے اقدامات کیے ہیں جو اس نے پہلے کبھی نہیں کیے تھے، اگر اسے نہ روکا گیا تو ایران چند ماہ یا ایک سال سے بھی کم عرصے میں جوہری ہتھیار بنانے کے قابل ہو سکتا ہے۔وزیرِاعظم نیتن یاہو نے عالمی برادری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کا ایٹمی پروگرام صرف اسرائیل ہی نہیں بلکہ خطے اور عالمی امن کے لیے بھی شدید خطرہ ہے۔اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ فضائی حملے ایران کے جوہری پروگرام اور عسکری تنصیبات پر مرکوز ہیں۔اسرائیلی فوج کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے مطابق ان حملوں کا ہدف ایران کا جوہری پروگرام، طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل اور دیگر اہم عسکری تنصیبات تھیں۔ اسرائیلی فضائیہ نے ملک کے مختلف حصوں میں درجنوں اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔
’آپریشن رائزنگ لائن‘ کا مقصد ایران سے درپیش خطرے کا خاتمہ ہے،نیتن یاہو

