کوئٹہ (ڈیلی گرین گوادر) مہنگائی اور مویشیوں کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے باعث عوام کی بڑی تعداد نے اجتماعی قربانی کو ترجیح دینا شروع کر دی ہے۔ بیشتر شہری انفرادی قربانی کی استطاعت نہ ہونے کے سبب یا تو قربانی سے گریز کر رہے ہیں یا پھر دینی مدارس، فلاحی اداروں، محلوں اور سوسائٹیز کی سطح پر اجتماعی قربانی کا حصہ بن رہے ہیں۔دینی مدارس و فلاحی ادارے اجتماعی قربانی کے دو طریقوں سے بکنگ کر رہے ہیں: ایک وہ جس میں گوشت مستحقین میں تقسیم کیا جاتا ہے، اور دوسرا وہ جس میں حصہ دار گوشت وصول کرتے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اجتماعی قربانی نہ صرف معاشی لحاظ سے آسان ہے بلکہ اس میں ذبح، صفائی اور گوشت کی تقسیم جیسی فکروں سے بھی نجات ملتی ہے۔ماہرین کے مطابق رواں برس اجتماعی قربانی کا رجحان خاص طور پر شہروں میں نمایاں طور پر بڑھا ہے، کیونکہ مہنگے داموں فروخت ہونے والے مویشی عام شہریوں کی قوت خرید سے باہر ہو چکے ہیں۔ دوسری جانب عید الاضحی قریب آتے ہی کوئٹہ شہر میں قربانی کے جانوروں کی خرید و فروخت کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے، تاہم شہریوں نے حکومتی احکامات کو نظر انداز کرتے ہوئے شہر کے مختلف علاقوں میں غیر قانونی مویشی منڈیاں قائم کر لی ہیں، جس سے کانگو وائرس سمیت دیگر متعدی بیماریوں کے پھیلنے کے خطرات میں اضافہ ہو گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق عالمو چوک، جوائنٹ روڈ، سریاب روڈ، مری آباد، شہباز ٹان، سپینی روڈ، خروٹ آباد اور سبزل روڈ جیسے مصروف اور گنجان آباد علاقوں میں جگہ جگہ منڈیاں لگا دی گئی ہیں، جہاں بیوپاری اور خریدار اپنی سہولت کے مطابق جانوروں کی خرید و فروخت کر رہے ہیں۔ ان منڈیوں میں نہ تو صفائی کے مناسب انتظامات ہیں اور نہ ہی جانوروں کی طبی جانچ کا کوئی بندوبست، جس سے شہریوں کی صحت کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب حکومت بلوچستان کی جانب سے مشرقی بائی پاس کے مقام پر باقاعدہ بکرہ پیڑہ کے لیے مخصوص جگہ مختص کی گئی۔ حکومت نے بیوپاریوں کو ہدایت دی تھی کہ وہ اپنی خرید و فروخت اسی مقام پر کریں تاکہ نہ صرف شہر کی ٹریفک اور صفائی کا نظام برقرار رکھا جا سکے بلکہ عوام کو بیماریوں سے بھی محفوظ رکھا جا سکے۔مگر اس کے باوجود، بیشتر بیوپاری اور خریدار حکومت کی جانب سے مختص کی گئی منڈی میں جانے کے بجائے، محلوں اور سڑکوں کے کنارے منڈیاں قائم کر کے جانوروں کی خرید و فروخت میں مصروف ہیں۔ اس غیر ذمہ دارانہ رویے سے نہ صرف شہری مشکلات کا شکار ہو رہے ہیں بلکہ شہر میں صحت عامہ کے نظام پر بھی دبا بڑھ رہا ہے۔
مہنگائی کے باعث قربانی کے جانوروں کی قیمتیں آسمان پر، اجتماعی قربانی کا رجحان بڑھ گیا

