کراچی(ڈیلی گرین گوادر)نوشکی کے علاقے میں تیل بردار ٹینکر میں لگنے والی آگ کے دلخراش واقعے میں شہدا کی تعداد 19 ہوگئی ہے۔ حادثہ اس وقت پیش آیا جب مقامی لوگ ٹینکر سے تیل جمع کر رہے تھے کہ اچانک ٹینکر میں زور دار دھماکہ ہوا اور آگ بھڑک اٹھی، جس نے متعدد افراد کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔شہید ہونے والوں میں سے عبدالروف(ڈرائیور)سکنہ کوئٹہ، محمد طیب ولد میر نوروز خان کلی شریف خان بادینی، عبدالرازق ولد عبدالمجید قاضی آباد، محمود ولد رستم خان مینگل قاضی آباد، جہانزیب ولد محمد انور بادینی قاضی آباد، محمد طیب ولد کریم شاہ غریب آباد، حاجی یحیی بادینی ولد میر نوروز خان بادینی کلی شریف خان بادینی، سلمان ولد اختر قلندرانی غریب آباد، عزیر احمد ولد نزیر احمد کلی غریب آباد، عبدالباسط ولد حاجی محمد رفیق سرپرہ کلی مینگل، غلام مصطفے ولد حاجی آغا محمد کلی صاحبزادہ، درمحمد عرف بابل کلی شریف خان بادینی، محمد تنویر سکنہ قادر آباد، امین اللہ بڑیچ سکنہ انعام بوستان، محمد شاکر ولد عبدالمالک سکنہ قادر آباد، محمد جابر مینگل ولد رادو خان سکنہ عیسی چاہ، محمد ادریس سرپرہ، محمد اسلم ولد کالا خان قادر آباد، اور جہانزیب ولد محمد شہزا د بھی شامل ہے ادھر، واقعے میں جھلس کر زخمی ہونے والے افراد کو وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایت پر لیاقت نیشنل اسپتال کراچی منتقل کیا گیا، جہاں ان کا علاج سرکاری خرچ پر جاری ہے۔ تاہم زخمیوں کے لواحقین کا کہنا ہے کہ اسپتال کے عملے کی غیر سنجیدگی اور ڈاکٹرز کی عدم توجہی کے باعث زخمی نوجوان موت کے دہانے پر پہنچ رہے ہیں۔مریضوں کے رشتہ داروں نے اسپتال کے باہر شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ لیاقت نیشنل اسپتال کے عملے کے رویے نے زخمیوں اور ان کے اہل خانہ کو ذہنی اذیت میں مبتلا کر دیا ہے۔ انہوں نے حکومت بلوچستان سے اپیل کی ہے کہ وہ اسپتال انتظامیہ کی غفلت کا نوٹس لے اور متاثرہ افراد کو فوری طور پر بہتر علاج فراہم کیا جائے تاکہ مزید قیمتی جانوں کو بچایا جا سکے۔
سانحہ نوشکی کے زخمیوں کی اموات کا سلسلہ تھم نہ سکا،تعداد 19 ہوگئی

ٹیگز:
سانحہ نوشکی
