کوئٹہ:ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کے دیگر رہنماؤں کو اگرچہ سنیچر کے روز ایم پی او کے تحت گرفتار کیا گیا تھا لیکن اب ان کو ان تین افراد کے قتل کے مقدمے میں بھی نامزد کر دیا گیا ہے۔قتل ہونے والے یہ تینوں افراد بلوچ یکجہتی کمیٹی کے دھرنے پر پولیس کی کریک ڈاؤن کے دوران مارے گئے تھے۔بلوچ یکجہتی کمیٹی کا دعویٰ ہے کہ یہ تین افراد پولیس کی جانب سے مظاہرین پر ہونے والے کریک ڈاؤن کے دوران براہ راست پولیس کی فائرنگ سے ہلاک اور زخمی ہوئے۔‘
تاہم اس کے برعکس پولیس کی جانب سے درج تین ایف آئی آرز میں سے ایک میں یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ یہ لوگ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے ’بلوائیوں‘ کی فائرنگ سے ہلاک اور زخمی ہوئے۔بلوچ یکجہتی کمیٹی کے زیر اہتمام جمعرات کے روز یونیورسٹی آف بلوچستان کے قریب دھرنا جعفر ایکسپریس کے حملے کے بعد ہلاک ہونے والے مبینہ عسکریت پسندوں کی لاشوں کو حوالے نہ کرنے اور کمیٹی کے رہنمائوں کی گرفتاری کے خلاف دیا گیا تھا۔
یہ علاقہ سریاب پولیس تھانے کی حدود میں آتا ہے۔ 21 مارچ کو سریاب پولیس سٹیشن میں درج ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ’ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، بیبو بلوچ، گلزادی، صبیحہ بلوچ اور صبغت اللہ کی قیادت میں سریاب روڈ پر چار سو سے پانچ سو ’بلوائی کالعدم تنظیموں‘ کی حمایت میں جمع تھے اور وہ ریاست مخالف نعرے لگارہے تھے۔‘
ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ’بلوائیوں نے توڑ پھوڑ کی اور ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور دیگر افراد دھرنے میں شامل مظاہرین کو مسلسل پولیس پر حملے کے لیے اکساتے رہے۔‘ایف آئی آر میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ’بلوائیوں نے پولیس پارٹی پر آتشیں اسلحے سے فائرنگ کی جس سے پولیس اہلکاروں کے علاوہ راہگیر اور بلوائیوں کے اپنے ساتھی بھی زخمی ہوگئے۔‘
ایف آئی آر کے مطابق زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا جارہا تھا کہ ان میں سے تین افراد بولان میڈیکل کمپلیکس ہسپتال منتقلی کے دوران ہلاک ہوگئے۔
اس ایف آئی آر میں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، بلوچ یکجہتی کمیٹی کے متعدد رہنمائوں کے علاوہ دیگر افراد کے خلاف قتل اور اقدامِ قتل سمیت تعزیراتِ پاکستان کی 16 دفعات کے علاوہ انسداد دہشت گردی کے دفعات کے تحت بھی مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

