کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)جماعت اسلامی کے صوبائی امیر و رکن بلوچستان اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے کہا ہے کہ پاک چائنا اقتصادی راہداری کے تحت اسلام آباد سے براہستہ ڈیر ہ اسماعیل خان ژوب کوئٹہ اور کوئٹہ سے گوادر اور کوئٹہ سے کراچی چمن اور کوئٹہ سے سکھر موٹروے کے تعمیر کا آ غاز کیا جائے سیکیورٹی ادارے آئین کے تحت اپنے فرائض سر انجام دیں سیاسی معاملات سرکاری معاملات اور پارلیمنٹ کے معاملات میں جاری مداخلت ختم کردیں لاپتہ افراد کے مسئلہ کو جلد ازجلد فوری طور پر حل کیا جائے جو زندہ ہے ان کو منظر عام پر لایا جائے اور جو فوت یا مارے گئے ہیں ان کے ورثا سے قبائلی رسم رواج کے مطابق طریقہ کار اختیار کیا جائے صوبے میں ناجائز چیک پوسٹوں کا خاتمہ کیا جائے جہاں عوام کی تذلیل کی جاتی ہے ایف سی کو بلوچستان سے نکال دیا جائے اور ان کی جگہ اختیارات پولیس کو دی جائے ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر جماعت اسلامی کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات ولی شاکر اور دیگر رہنما بھی موجود تھے مولانا ہدایت الرحمان نے کہا کہ بلوچستان کے حالات پر حکومت کو کچھ تجاویز دیتا ہوں اگر وہ ان پر عمل کریں گے تو صوبے میں امن بحال ہوگا اور معاملات میں بہتری آئے گی ان میں سے مندرجہ زیل ہیں 1۔بلوچستان کے موجودہ حالات پر حکومت ہنگامی بنیادوں پر صوبے کی سیاسی قیادت پارلمینٹریز قبائلی زعما ے کے ساتھ مشاورت کے بعد متفقہ لائحہ عمل جاری کیا جائے ریاست کے طاقت کے ناجائز استعمال اور زیادتیوں کی وجہ سے ناراض یا ریاست بیزار قوتوں یا تنظیموں یا شخصیات سے باقاعدہ مذاکرات کئے جائیں۔3۔ مذاکرات کے لئے سازگار ماحول بنانے کی اصل ذمہ داری حکومت اور ریاست کے اداروں کی ہے، دھمکی آمیز لہجہ اور رویہ ترک کیا جائے۔4- لا پتہ افراد کے مسئلے کو جلد از جلد اور فوری طور پر حل کیا جائے، جو زندہ ہیں ان کو فوری طور پر منظر عام پر لایا جائے اور جو قوت یا مار دئے گئے ہیں ان کے ورثا سے قبائلی رسم و رواج کے مطابق طریقہ کار اختیار کیا جائے۔5۔ ناجائز چیک پوسٹوں کا خاتمہ کیا جائے، چیک پوسٹوں پر عوام کی تذلیل کا سلسلہ بند کیا جائے، تو ہین آمیز رویہ گالی اور گولی کی پالیسی ختم کی جائے۔6۔ ایف سی کو بلوچستان سے نکال دیا جائے اور ان سے پولیس کے اختیارات واپس کئے جائیں۔7- ڈیتھ اسکواڈ کی سر پرستی ختم کی جائے اچھا مجرم اور بر مجرم کی تقسیم کا خاتمہ کیا جائے۔ کارڈ ہولڈرز کے کارڈ منسوخ کئے جائیں۔8۔ منشیات کے اڈوں کا خاتمہ کیا جائے منشیات فروشوں کی سر پرستی ختم کی جائے۔9۔ کرپشن کا خاتمہ کیا جائے، قومی وسائل عوام کے فلاح و بہبود پر لگائے جائیں کر پشن کرنے والے سیاست دان، بجز، جرنیل اور بیوروکریسی کے خلاف سخت کاروائی کی جائے۔10 – عوام کو انصاف دیا جائے، عدلیہ کو فعال اور با اختیار بنایا جائے، عدلیہ پر عوام کا اعتماد بحال کرنے کے لئے عملی اقدامات کئے جائیں۔11۔ بارڈرکے کاروبار کو آزاد کیا جائے اوراس پر پابندیاں ختم کی جائیں، ای ٹیگ، ٹوکن کا خاتمہ کیا جائے شاختی کارڈ کے ذریعہ کام کرنے دیا جائے، کراسنگ پوائنٹس سب کھول دئے جائیں گاڑیوں اور بوٹس کی حد بندی ختم کی جائے۔12۔ لیویز اور پولیس کو وسائل فراہم کئے جائیں اور ان کو پرامن بلو چستان بنانے کے لئے تمام اختیارات دئے جائیں۔ اور ان کی تنخواہیں پنجاب پولیس کی برابر کی جائیں۔13۔ ملازمتوں میں بندر بانٹ، اقربا پروری اور خرید و فروحت کا ساسانیستم کیا جائے اور تمام ملازمتیں میرٹ پر دیئے جائیں 14۔ بلوچستان کے نو جوانوں کو خود کفیل بنانے کے لئے روز گار سکیم شروع کی جائے اور ان کو بلا سود قرضے دئے جائیں۔15 پاک چائینہ اقتصادی راہ داری کے تحت اسلام آباد سے براستہ ڈیرہ اسماعیل خان، ژوب، کوئٹہ اور کوئٹہ سے گوادر، کوئٹہ سے کراچی، کوئٹہ سے چمن، اور کوئٹہ سے سکھر موٹر وے کی تعمیر کا آغاز کیا جائے۔16۔ بلوچستان میں گذشتہ کئی سالوں سے جنگ کے دوران مارے جان والے نو جوانوں کے خون بہا کے تعین کے لئے عوامی اور قبائلی نمائندوں پر مشتمل کمیشن بنایا جائے اور ان کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے۔17۔ بلوچستان پارلیمنٹ کو آزادانہ کام کرنے دیا جائے عوام کے کو ووٹ کو عزت دیا جائے، سیاسی کارکنوں کو ان کا جائز مقام دیا جائے۔18 سیکورٹی ادارے آئین کے تحت اپنے فرائض سر انجام دیں، سیاسی معاملات، سرکاری معاملات اور پارلیمنٹ کے معاملات میں جاری مداخلت کا خاتمہ کیا جائے۔19بیورو کریسی کے ظلم سے عوام کو نجات دلا یا جائے، سرکاری دفاتر کو عوامی خدمت کا مرکز بنایا جائے نہ کہ کرپشن کا گڑھ،کرپٹ اور نا اہل افسرن کو جبری ریٹائر کیا جائے اور ان کی جگہ قابل با صلاحیت اور ایماندار افسران کا تقرر کیا جائے۔ 20۔ کوسٹ گارڈ سے کسٹم کے اختیارات واپس لئے جائیں۔
لاپتہ افراد کے مسئلہ کو جلد ازجلدحل کیا جائے جو زندہ ہے ان کو منظر عام پر لایا جائے،مولانا ہدایت الرحمان بلوچ

