کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)بلوچستان ہائی کورٹ میں قائم انتخابی ٹریبونل میں حلقہ پی بی 40 کی انتخابی عذرداری کیس کی سماعت ہوئی، جس کی صدارت ٹریبونل کے جج عبداللہ بلوچ نے کی۔ سماعت کے دوران نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کی جانب سے 118 صفحات پر مشتمل تفصیلی رپورٹ عدالت میں جمع کرائی گئی، جس میں انتخابی عمل میں سنگین بے ضابطگیوں اور ہزاروں ووٹوں کی تصدیق میں مسائل کا انکشاف کیا گیا ہے۔نادرا رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حلقہ پی بی 40 میں مجموعی طور پر 29 ہزار 400 ووٹوں کی تصدیق کا عمل کیا گیا، جس میں سے صرف 4 ہزار 412 ووٹوں کی تصدیق ہو سکی، جبکہ 13 ہزار 585 ووٹوں کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔ مزید برآں، 21 ہزار 403 ووٹوں کی تصدیق میں شدید مشکلات کا سامنا رہا، جس کے باعث ان ووٹوں کی درست حیثیت کے حوالے سے شکوک و شبہات پیدا ہو گئے ہیں۔عدالت نے نادرا کی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ڈائریکٹر نادرا کو 28 فروری کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دے دیا ہے تاکہ وہ رپورٹ میں موجود حقائق کی وضاحت کریں اور ان خامیوں پر روشنی ڈالیں جو ووٹرز کی تصدیق کے عمل میں سامنے آئی ہیں۔سماعت کے دوران درخواست گزار قادر علی نائیل کی جانب سے معروف وکلا ریاض احمد ایڈووکیٹ، مجتبی علی ایڈووکیٹ اور اصغر علی ایڈووکیٹ پیش ہوئے جبکہ حلقے سے منتخب رکن بلوچستان اسمبلی صمد گورگیج کی جانب سے سینئر وکیل امان اللہ کنرانی ایڈووکیٹ نے عدالت میں اپنا موقف پیش کیا۔ دونوں فریقین کو نادرا رپورٹ فراہم کر دی گئی ہے تاکہ وہ اس پر اپنے قانونی دلائل تیار کر سکیں۔عدالت نے کیس کی مزید سماعت 28 فروری تک ملتوی کر دی ہے۔
حلقہ پی بی 40 انتخابی عذرداری،13ہزار 585ووٹوں کا ریکارڈ غائب، ڈائریکٹر نادرا طلب

ٹیگز:
حلقہ پی بی 40
