کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)نیشنل پارٹی بلوچستان کے ورکنگ کمیٹی کا اجلاس دوسرے روز بھی پارٹی کے مرکزی سیکریٹریٹ میں زیر صدارت صوبائی صدر اسلم بلوچ کی زیرصدارت جاری رہا دوسرے روز کے اجلاس میں پارٹی کو فعال بنانے کے لیئے مختلف فیصلے کیئے گئے اورکمیٹیاں تشکیل دی گئیں اور سیاسی صورتحال پر سیر حاصل بحث کی گئی، پارٹی کے صوبائی صدر اسلم بلوچ نے اپنے اختتامی خطاب میں کہا کہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد دانستہ طورپر حقیقی سیاسی قیادت کو اسمبلیوں سے روک کر مصنوعی قیادت کو عوام پر مسلط کیا گیا تاکہ اٹھارہویں ترمیم پر عملدرامد نہ ہو تاکہ وفاق بدستور وسائل پر قابض رہے اور پنجاب کی بالادستی قائم رہے۔آج بلوچستان بالخصوص چاغی میں زیرزمین معدنیات کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا جارہا ہے لاکھوں ایکڑ اراضی غیربلوچستانیوں کو الاٹ کرکے مائننگ کی جارہی ہے سیندک، ریکوڈک کے بعد چاغی کی سرزمین کو بانجھ بنایا جارہا ہے اس سلسلے میں فیصلہ کیا گیا کہ اس لوٹ مار کے خلاف بلوچستان بھر میں کانفرنسز منعقد کیئے جاہینگے۔ اس موقع پر صوبائی جنرل سیکریٹری ایڈوکیٹ چنگیز حئی بلوچ، نائب صدر ولید بزنجو،کلثوم نیاز، میراں بلوچ، ایوب دہواری، عبید لاشاری، انور اسلم، نواز کھوسو، ریاض زہری، سعد بلوچ، میڈم فریدہ، سید فاروق شاہ، آدم قادر بخش نے بھی خطاب کیا مقررین نے کہا کہ بلوچستان میں گورننس نام کی کوئی چیز نہیں حکومت اشاروں پہ چل رہی ہے لوٹ مار اور قومی محکومی کاے خلاف بات کرنے والوں کو لاپتہ کیا جاتا ہے یا ان پر جھوٹے مقدمات درج کئیے جارہے ہیں سی پیک کے نام پر بلوچستان کو صرف چیک پوسٹ دیئے گئے ہیں جہاں ان کا عزت و نفس مجروع کرنے کے علاوہ ان پر ہر قسم کے روزگر کی راہیں بند کردی گیئں ہیں۔
بلوچستان کے وسائل کو ریاستی اداروں کی سرپرستی میں دونوں ہاتھوں سے لوٹا جارہا ہے، نیشنل پارٹی

ٹیگز:
نیشنل پارٹی
