کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)طبی ماہرین نے کہا ہے کہ بلوچستان میں غذائی قلت کے سنگین مسئلے سے نمٹنے کیلئے حکومت کے ساتھ ساتھ ڈونرز کو ملکر کام کرنے کی ضرورت ہے غذائیت کے مؤثر پروگراموں پر ہر 1 ڈالر کی سرمایہ کاری سے 16 ڈالر کے فوائد حاصل ہوتے ہیں،بچے کی صحت کیلئے ماں کا دودھ انتہائی اہمیت کا حامل ہے بریسٹ فیڈنگ کے فروغ کیلئے مزید کام کی ضرورت ہے۔یہ بات ڈائریکٹر بلوچستان نیوٹریشن ڈائریکٹوریٹ، ڈاکٹر غفار بلوچ،یونیسف کے ای سی ڈی منیجر امیری، دی چلڈرن انٹرنیشنل کے نیشنل پراجیکٹ منیجر اعظم کیانی نیشنل نیوٹریشن کوآرڈینیٹر، سیو دی چلڈرن انٹرنیشنل ڈاکٹر شیزہ حمید، فیض وڑائچ، ڈاکٹر ثمینہ بگٹی اوردیگر نے جمعہ کو سیو دی چلڈرن انٹرنیشنل کے زیراہتمام یونیسف کے تعاون سے منعقدہ ماں، بچے اور نو عمر بچوں کی غذائیت پر ایک مؤثر میڈیا ایڈووکیسی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ تقریب میں اہم اسٹیک ہولڈرز بشمول مختلف سرکاری محکموں، اقوام متحدہ کی ایجنسیوں، میڈیا پروفیشنلز اور غذائیت کی ترقی میں شامل شراکت داروں نے شرکت کی۔ ورکشاپ کا مقصد بلوچستان میں غذائی قلت کے سنگین مسئلے سے نمٹنے کے لیے اشتراک اور جدت کو فروغ دینا تھا۔ڈائریکٹر بلوچستان نیوٹریشن ڈائریکٹوریٹ، ڈاکٹر غفار بلوچ نے تمام شرکاء کاخیرمقدم کیا اور بلوچستان میں غذائی صورتحال کی سنگین حالت پر روشنی ڈالی۔انہوں نے صوبے میں غذائی قلت کے خطرناک اعداد و شمار کو اجاگر کیا اور ان چیلنجز سے مؤثر طور پر نمٹنے کے لیے بین القطاعی حکمت عملی کی ضرورت پر زور دیا۔ڈاکٹر غفار بلوچ نے کہا کہ ماں کا دودھ بچے کی صحت کیلئے انتہائی مفید ہے ماؤں کو چاہئے کہ وہ بچے کی پیدائش کے ایک گھنٹے کے اندر اندر بچے کو دودھ ضرور پلائیں۔انہوں نے کہا کہ بریسٹ فیڈنگ کے باعث مائیں چھاتی کے کینسر سے محفوظ رہتی ہیں اور ماں کے دوودھ کے باعث بچے مختلف بیماریوں کا مقابلہ کرسکتے ہیں اور ہمیں ڈبے کے دودھ کی حوصلہ شکنی کرنی ہوگی۔یونیسف کے ای سی ڈی منیجر امیری نے ابتدائی کلمات پیش کرتے ہوئے میڈیا کے اہم کردار کو سراہا جو عوام میں آگاہی اور حساسیت پیدا کرنے میں مدد دیتا ہے سیو دی چلڈرن انٹرنیشنل کے نیشنل پراجیکٹ منیجر اعظم کیانی نے ورکشاپ کے مقاصد اور مجموعی ایڈووکیسی مہم کا خاکہ پیش کیا جس میں ماں، بچے اور نو عمر بچوں کی غذائیت، خاندانی دوستانہ پالیسیوں اور بریسٹ ملک سبسٹیٹیوٹس (BMS) کے بین الاقوامی کوڈ کے نفاذ پر توجہ مرکوز کی گئی۔ورکشاپ کا ایک اہم تکنیکی سیشن ڈاکٹر شیزہ حمید، نیشنل نیوٹریشن کوآرڈینیٹر، سیو دی چلڈرن انٹرنیشنل، نے پیش کیا۔ انہوں نے “پاکستان میں ماں کی غذائی قلت،بصیرت اور پالیسی کی روریات” کے موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ غذائیت پر سرمایہ کاری حکومتوں کے لیے سب سے زیادہ مؤثر اقدامات میں سے ایک ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ غذائیت کے مؤثر پروگراموں پر ہر 1 ڈالر کی سرمایہ کاری سے 16 ڈالر کے فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ورکشاپ میں ایک دلچسپ پینل ڈسکشن بھی منعقد کی گئی جس میں ممتاز ماہرین بشمول ڈاکٹر غفار بلوچ، فیض وڑائچ، ڈاکٹر ثمینہ بگٹی اور اعظم کیانی نے شرکت کی۔ اس مباحثے کا موضوع تھا “میڈیا کے ذریعے تبدیلی: دودھ پلانے والی ماؤں کے لیے خاندانی دوستانہ پالیسیاں اور بریسٹ ملک سبسٹیٹیوٹس (BMS) کے بین الاقوامی کوڈ کے نفاذ میں میڈیا کا کردار۔”اہم موضوعات میں بلوچستان میں ماں اور بچے کی صحت پر رپورٹنگ کے دوران صحافیوں کو درپیش چیلنجز، درست طبی معلومات کو فروغ دینے کے لیے صحافیوں اور صحت کے ماہرین کے درمیان اشتراک کے طریقے، اور پاکستان میں میڈیا کے ذریعے چلائی جانے والی کامیاب صحت مہمات شامل تھیں، جنہیں بلوچستان میں بھی اپنایا جا سکتا ہے۔ اس مکالمے نے سرکاری عہدیداروں، میڈیا نمائندگان اور دیگر اہم شراکت داروں کے درمیان بامعنی گفتگو کو فروغ دیا اور ایڈووکیسی کی کوششوں کو مستحکم کرنے پر زور دیا۔اختتامی کلمات میں، ڈاکٹر غفار بلوچ نے بلوچستان میں غذائی قلت سے نمٹنے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا اور مربوط کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔ ورکشاپ کے اختتام پر، جناب اعظم کیانی نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور ان کے قیمتی تعاون کو سراہایہ میڈیا ایڈووکیسی ورکشاپ ماں، بچے اور نو عمر بچوں کی غذائیت کے حوالے سے آگاہی اور اجتماعی عمل کو فروغ دینے میں ایک اہم قدم ثابت ہوئی۔ میڈیا کا کردار ان کوششوں کو مزید اجاگر کرنے میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے تاکہ پائیدار تبدیلی کو یقینی بنایا جا سکے۔
بچے کی صحت کیلئے ماں کا دودھ انتہائی اہمیت کا حامل ہے،ڈاکٹر غفار بلوچ

ٹیگز:
ڈاکٹر غفار بلوچ
