گوادر (ڈیلی گرین گوادر)گوادر کی جوڈیشل مجسٹریٹ ون کی عدالت نے ڈھوریہ اکیڈمی کے سامنے بک اسٹال لگانے کے الزام میں بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے گرفتار چار طالب علموں کی ضمانت منظور کر لی ہے، عدالت نے ملزمان کو فی کس 40 ہزار روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کے بعد رہائی کا حکم دیا اور گرفتار شدگان کے وکلاء میں گوادر بار کے قائم مقام صدر ایڈوکیٹ میر عادل کلمتی، سینئر ایڈوکیٹ رستم بلوچ، سابق صدر گوادر بار صدیق زامرانی ایڈوکیٹ، نواز نیاز ایڈوکیٹ اور طارق حسن ایڈوکیٹ شامل تھے، وکلاء نے عدالت کے سامنے دلائل دیتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ طلباء کا عمل کسی قسم کی غیر قانونی سرگرمی کے زمرے میں نہیں آتا۔دریں اثناء گوادر بار ایسوسی ایشن نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ گزشتہ دنوں پولیس کی جانب گوادر کے طلبا کو گرفتار کر کے ایک بے بنیاد مقدمہ درج کیا گیا جو کہ گوادر کے طلبا کو علم سے دور کرنا کی ایک سازش ہے ترجمان گوادر بار ایسوسی ایشن نے کہا گوادر بار ایسوسی ایشن ملک میں قانون کی حکمرانی اور جموریت کی پاسداری کی لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی،انہوں نے کہا گزشتہ دنوں پولیس کی جانب گوادر کے طلبا کو گرفتار کر کے ایک بے بنیاد مقدمہ درج کیا گیا جو کہ گوادر کے طلبا کو علم سے دور کرنا کی ایک سازش ہے جبکہ اس عمل پر گوادر کے سیاسی قیادت کا مضبوط ردعمل آنا چاہیے تھا،گوادر بار طلبا کے ساتھ کھڑا رہے گا۔
گوادر،جوڈیشل مجسٹریٹ ون کی عدالت نے بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے گرفتار چار طالب علموں کی ضمانت منظور کر لی

ٹیگز:
گوادر
