مستونگ(ڈیلی گرین گوادر) جمعیت علماء اسلام مستونگ کے ضلعی امیر مولانا شبیر احمد عثمانی نے کہاہے کہ حکمران ہوش کے ناخن لیں مدارس پر چھاپوں سے گریز کریں, اگر حکومت یا انتظامیہ کو کسی بھی مدرسہ میں دہشت گرد کی کوئی شک یا موجودگی کی اطلاع ہو تو ہمیں بتائے اور قائدین کو اعتماد میں لیں ہم وہ انہیں حوالہ کریں گے،مدارس دین کے قعلے اور درس گاہیں ہے مدارس میں دین و اسلام کی تعلیم دی جاتی ہیمدارس کی تحفظ کیلئے سیسہ پلائی دیوار رینگے،اگر مستونگ کے مدارس کے خلاف کاروائی ہوئی تو اسکے بیانک نتائج برآمد ہونگے جس کی تمام زمہ داری ضلعی انتظامیہ پر عائدہوگی،بلوچستان میں آپریشن سے مسائل میں مزید اضافہ ہوگا،سابق ادوار میں بلوچستان میں فوجی آپریشن سے کچھ حاصل نہیں ہوا بلکہ بدامنی اور نفرتوں میں اضافہ ہوا۔ بلوچستان کے لوگوں کا اہم مسلہ روزگار کا ہے حکومت دانستہ طور پر بارڈر و تیل سیمنسلک عوام کے روزگار پر پابندی عائد کرنے عوام دہشت گردی کی طرف دھکیل رہے ہیں،مستونگ میں عوام کا سب سے بڑا مسلہ امن کا ہے مستونگ میں 2017 سے مسلسل دہشت گردی و بدامنی کے واقعات تواتر سے رونماء ہو رہے ہیں دہشت گردی کی چار بڑے واقعات میں سینکڑوں معصوم اور بیگناہ لوگ شہید اور زندگی بھر کیلئے معذور ہو گئے مگر افسوس ہر واقعے کے بعد حکومت اور انتظامیہ کی جانب سے تفل تسلی دی گئی کے واقعات میں ملوث افراد گرفتار ہونگے مگر آج تک کسی بھی واقعے کا کوئی ملزم نہ گرفتار یوا اور نہ ہی انصاف فراہم کی گئی،ان خیالات اظہار انھوں جامعہ نصیریہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقعے پر تحصیل مستونگ امیر مولانا شکیل احمد شاہوانی، کھڈکوچہ تحصیل کے امیر مولانا محمود سیفی، ولی خان تحصیل کے امیر قاری عزت اللہ، شیریں اب کے امیر حافظ حفیظ اللہ، سیکرٹری اطلاعات قاری محمد یحیی مینگل، ڈاکٹر عبدالباسط لہڑی مولانا عصمت عزیز شاہوانی سمیت دیگر موجود تھیانھوں نے کہاکہ مستونگ بازار معصوم بچوں کو نشانہ بنایا گیا جسکا کوئی ملزم قانون کے کٹھیرے میں نہیں لایاجا سکا، مستونگ میں سب سے بڑا مسلہ بدامنی کا ہے انتظامیہ عوامی مسائل کو حل درکنار عوام کی جان و مال کی تحفظ میں مکمل ناکام ہوچکی ہیں،اس اہم مسلے کے حل کیلئے کوئی اقدام نظر نہیں آرہا، اور ڈپٹی کمشنر ضلع کا سربراہ ہے مگر وہ اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے سے قاصر ہے، انھوں نے مزید کہاکہ مستونگ بازار میں ٹریفک کے مسائل گھمبیر یوچکے ہیں، ٹریفک کنٹرول کیلئے کوئی جامعہ پلان نہ ہونے سے عوام مشکلات کا شکار ہوگئے ہیں جبکہ مستونگ میں صفائی کی صورتحال مخدوش ہوگیا ہے نالیاں بند نمازی مسجد تک جا نہیں سکتے، انھوں نے کہاکہ مستونگ سرد ترین علاقہ ہے مگر یہاں پر سوئی گیس پریشر مکمل ختم ہوگیا ہے جس کی وجہ سے عوام سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہورہے ہیں زرعی شعبہ بھی بجلی کی عدم فراہمی سے تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا ہے، مستونگ مسائلستان بن گیا ہے عوام کے مسائل کے حل کیلئے حکومت و انتظامیہ کی جانب سے کوئی جامعہ پلان نظر نہیں آرہا اور نہ ہی کوئی ان مسائل کے حل کیلئے سنجیدگی کا مظاہرہ کررہا ہیں، انھوں کہاکہ ایم این اے اور ایم پی اے سے گزارش ہیکہ وہ ان مسائل کے حل کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔
حکمران ہوش کے ناخن لیں مدارس پر چھاپوں سے گریز کریں،مولانا شبیراحمدعثمانی

ٹیگز:
مولانا شبیراحمدعثمانی
